ترنمول کانگریس کی چیئرپرسن اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کو الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے تازہ ترین رہنما خطوط پر سخت اعتراض کیا، جس میں ووٹر لسٹ میں شمولیت کے لیے شہریت کو ثابت کرنے والے ایک مخصوص شناختی کارڈ اور ہندوستانی شہریت کا خود تصدیق شدہ اعلامیہ جمع کرنا لازمی ہے۔
ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور ’’بی جے پی کی مدد کے لیے ہنگامی ہتھیار فراہم‘‘ کر رہا ہے۔ دریں اثنا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ ’’مودی جی وزیر اعظم ہیں۔ میں اس عہدے کا احترام کرتی ہوں۔ لیکن ای سی آئی امت شاہ کے ساتھ ہے، وہی ملک کو چلا رہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق موجودہ چیف الیکشن کمشنر پہلے امت شاہ کی سربراہی والی وزارت تعاون میں بطور سیکریٹری کام کر چکے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ اس سال کے آخر میں ہونے والے بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے ای سی آئی نے ووٹر لسٹ پر ایک جامع نظر ثانی کا اعلان کرتے ہوئے رہنما خطوط کا ایک نیا سیٹ جاری کیا۔ ممتا بنرجی نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ اعلان بہار کے بہانے کیا گیا ہے، لیکن اس کا اصل ہدف بنگال ہے۔
کیا کہتے ہیں الیکشن کمیشن کے نئے رہنما خطوط
نئے قوانین کے تحت الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ درست شہریت کے شناختی کارڈ کے بغیر نام ووٹرز کی فہرست میں شامل نہیں کیے جا سکتے۔ جن لوگوں کے نام 2003 کی انتخابی فہرست میں نہیں تھے انھیں جائے پیدائش کا ثبوت بھی پیش کرنا ہوگا۔ مزید برآں ہر درخواست دہندہ کو ہندوستانی شہریت کا خود تصدیق شدہ اعلامیہ پیش کرنا ہوگا۔ کمیشن کی ہدایات کے مطابق:
1 جولائی 1987 سے پہلے پیدا ہونے والے ووٹرز کو تاریخ اور جائے پیدائش کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا (مثلاً پیدائش کا سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ)۔
1 جولائی 1987 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو اپنے والدین کے دستاویزات کے ساتھ ذاتی شناختی دستاویزات جمع کروانا ہوں گی۔
یہی اصول 2 دسمبر 2004 کے بعد پیدا ہونے والے افراد پر بھی نافذ ہوتا ہے۔
ان قوانین کا اصل ہدف بنگال کے مہاجر ووٹروں کو نشانہ بنانا ہے: ممتا بنرجی
تاہم ممتا بنرجی نے ان دفعات پر سخت اعتراض کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد بنگال میں مہاجر آبادی کے ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’کمیشن بہار کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ چوں کہ وہاں بی جے پی برسراقتدار ہے، اس لیے سختی سے اس کا نفاذ نہیں ہو گا۔ اصل ہدف بنگال ہے۔ کمیشن بالکل وہی کر رہا ہے جو بی جے پی کہتی ہے۔‘‘
ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ’’الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر ایسے فیصلے نہیں کر سکتا۔ ECI کو غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ ہم ایک وفاقی نظام والے جمہوری ملک میں رہتے ہیں۔ منتخب حکومتیں اور سیاسی جماعتیں غلام نہیں ہیں۔‘‘ ممتا بنرجی نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کی مخالفت کریں۔
کیا یہ چوری چھپے این آر سی نافذ کرنے کی کوشش ہے؟ ممتا بنرجی نے پوچھا سوال
انھوں نے کہا ’’1987 سے پہلے پیدا ہونے والے لوگوں کو ہندوستانی شہری کیسے نہیں مانا جا سکتا؟ ہندوستان نے 1947 میں آزادی حاصل کی۔ 1987 سے 2004 کے درمیانی عرصے کے لوگوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ یہ انتہائی سنگین ہے۔غریب اپنے والدین کے سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کریں گے؟ کیا یہ چوری چھپے NRC کو لاگو کرنے کی کوشش ہے؟ ان کا اصل مقصد کیا ہے؟ وہ اسے واضح طور پر بیان کریں۔‘‘
ممتا بنرجی نے کہا کہ حالاں کہ ان کی پارٹی کو ووٹر لسٹ کی مناسب اور منصفانہ نظرثانی پر کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم ’’ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی بھی جائز ووٹر کا نام نہ چھوڑا جائے۔ لیکن جس طرح سے وہ یہ عمل کر رہے ہیں اس سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


