Bharat Express DD Free Dish

NRC

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے ووٹرلسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے موجودہ عمل پرشدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ محض ووٹرلسٹوں کی نظر ثانی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی جمہوری اورآئینی حقوق سے متعلق ایک نہایت سنگین معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ اگرہرشہری کوبارباراپنی شہریت اورحقِ رائے دہی ثابت کرنے پرمجبور کیا جائے تویہ صرف ووٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ آئین، جمہوریت اورشہری آزادیوں کا مسئلہ ہے۔

دہلی فسادات معاملے میں  گزشتہ 5 برس سے زائد عرصے سے مقید عمر خالد، شرجیل امام  اور دیگر ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سنوائی کے بعد ملزمان کی  درخواست ضمانت  پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔

ایک ایڈیشنل سی ای او سطح کا افسر ضلع مجسٹریٹس کے ساتھ روزانہ کی پیشرفت کا جائزہ لے گا، جبکہ ایک جوائنٹ سی ای او سطح کا افسر اضلاع میں عمل کی نگرانی کے لیے الیکٹورل رجسٹریشن افسروں (EROs) کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ووٹر لسٹ کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

ٹی ڈی پی نے کہا کہ آندھرا پردیش میں 2029 سے پہلے اسمبلی انتخابات نہیں ہوں گے، اس لیے ایس آئی آر اس بات کو یقینی بنانے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ووٹر لسٹیں منصفانہ، جامع اور شفاف طریقے سے دکھائی جائیں۔

پروفیسر انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی، لیکن جس طرح سے ان لوگوں کو محسوس ہوا کہ الیکشن کمیشن حکومت کے دباؤ میں ہے، یہ ملک کے لئے اورہماری جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔

ممتا بنرجی نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ اعلان بہار کے بہانے کیا گیا ہے، لیکن اس کا اصل ہدف بنگال ہے۔

آسام حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو واپس دھکیلنے کے لیے 1950 کے ایک غیر معروف قانون ’امیگرنٹس ایکسپلشن آرڈر‘ کو بنیاد بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

جے ایم ایم کے رہنما اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا، "بی جے پی کی ایسی کوئی بھی دال گلنے نہیں دی جائے گی جو سماج کو توڑنے کا ارادہ رکھتی ہو۔"

مسلم باشندوں کے ایک بڑے حصے کو خدشہ ہے کہ انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے میں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آل انڈیا متوا مہاسنگھ کے جنرل سکریٹری مہتوش بیدیا نے اعتراف کیا کہ سی اے اے کو لے کر مسلمانوں کے ایک حصے میں غصہ اور الجھن ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ میں این آر سی کی اجازت نہیں دوں گی۔ آسام میں 19 لاکھ ہندو بنگالیوں کے نام فہرست سے نکال دیے گئے ہیں۔