Bharat Express DD Free Dish

Congress Organisational Reshuffle: کانگریس میں بڑی تنظیمی تبدیلی، سچن پائلٹ کو پنجاب اوربھوپیش بگھیل کو آسام کی ذمہ داری

سچن پائلٹ کے سامنے پنجاب میں سب سے بڑا چیلنج پارٹی کے مختلف گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پرلانا ہوگا۔ چرن جیت سنگھ چنی، راجا وڈنگ اور دیگراہم لیڈران کے درمیان اختلافات کے ماحول میں تنظیمی اتحاد قائم کرنا اور کارکنوں کو انتخابی تیاریوں کے لیے متحرک کرنا سچ پائلٹ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوسکتا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس ہائی کمان نے پنجاب میں جاری اندرونی اختلافات اورگروہ بندی کے درمیان پارٹی تنظیم میں بڑا پھیربدل کرتے ہوئے سچن پائلٹ کوپنجاب کانگریس کا نیا انچارج مقررکیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سابق چھتیس گڑھ وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل کوپنجاب کے انچارج کے عہدے سے ہٹا کرآسام کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ پارٹی کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پنجاب کانگریس میں ریاستی قیادت، سابق وزیراعلیٰ چرن جیت سنگھ چنی اورپردیش کانگریس صدرامریندرسنگھ راجا وڈنگ کے درمیان اختلافات مسلسل خبروں میں ہیں۔ آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظرکانگریس قیادت کے لیے ریاستی تنظیم میں اتحاد قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

سچن پائلٹ کو پنجاب کی اہم ذمہ داری

راجستھان کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اورکانگریس کے سینئرلیڈرسچن پائلٹ کواب پنجاب کا اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج مقررکیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت کو امید ہے کہ پائلٹ کی نئی ذمہ داری سے پنجاب یونٹ میں جاری اختلافات کو کم کرنے اورتنظیم کو متحد کرنے میں مدد ملے گی۔ پنجاب اس وقت کانگریس کے لیے سیاسی اعتبارسے انتہائی اہم ریاست ہے، جہاں آنے والے اسمبلی انتخابات کے لیے تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ایسے میں کانگریس ہائی کمان نے تنظیمی سطح پرنئی قیادت کوذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھوپیش بگھیل کو آسام کا چارج

پنجاب سے ہٹائے جانے کے بعد بھوپیش بگھیل کو آسام کانگریس کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ بگھیل گزشتہ عرصے سے پنجاب کانگریس کے معاملات کی نگرانی کر رہے تھے اور ریاستی تنظیم میں جاری اختلافات کے درمیان کئی اہم میٹنگوں میں انہوں نے پارٹی کے مختلف دھڑوں سے بات چیت کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں بگھیل پنجاب میں راہل گاندھی کے مجوزہ دورے کی تیاریوں میں بھی سرگرم تھے۔ 3 ستمبر کو پنجاب کانگریس کے اہم رہنماؤں نے راہل گاندھی کے دورے کے روٹ اور پروگرام سے متعلق منصوبہ ان کی ٹیم کے سامنے پیش کیا تھا۔

پنجاب کانگریس میں اختلافات کھل کر سامنے آئے

پنجاب کانگریس میں اختلافات گزشتہ کئی ماہ سے پارٹی قیادت کے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ چرن جیت سنگھ چنی کے حامی دھڑے کی جانب سے ریاستی کانگریس صدر امریندر سنگھ راجا وڈنگ کی قیادت پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ جولائی میں بھی پارٹی کے اندر موجود اختلافات کے حوالے سے بگھیل نے متعدد ناراض رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ اختلافات کی ایک بڑی وجہ ریاستی تنظیم میں قیادت اور سیاسی فیصلوں سے متعلق ناراضی بتائی گئی تھی۔ اگست میں لدھیانہ میں کانگریس کی ایک تنظیمی میٹنگ کے دوران کارکنوں کی جانب سے بگھیل کے خلاف نعرے بازی اور احتجاج بھی ہوا تھا، جس نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا تھا۔

راہل گاندھی کے پنجاب دورے سے پہلے بڑا فیصلہ

کانگریس رہنما راہل گاندھی کے ستمبر میں پنجاب کے ممکنہ دورے سے قبل پارٹی نے یہ بڑا تنظیمی فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق قیادت پنجاب میں گروپ بندی ختم کرکے انتخابی تیاریوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔ حالیہ دنوں میں کانگریس کے سینئر رہنماؤں نے دہلی میں ملاقات کرکے پنجاب یونٹ کے اختلافات اور راہل گاندھی کے مجوزہ دورے پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

سرجے والا کو بھی نئی ذمہ داری

کانگریس کے تازہ تنظیمی پھیربدل میں صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ دیگرریاستوں کے انچارج بھی تبدیل کئے گئے ہیں۔ رندیپ سنگھ سرجے والا کوگجرات کا انچارج بنایا گیا ہے جبکہ انہیں کرناٹک کی اضافی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

پائلٹ کے سامنے بڑا چیلنج

سچن پائلٹ کے سامنے پنجاب میں سب سے بڑا چیلنج پارٹی کے مختلف گروپوں کوایک پلیٹ فارم پرلانا ہوگا۔ چرن جیت سنگھ چنی، راجا وڈنگ اوردیگراہم لیڈران کے درمیان اختلافات کے ماحول میں تنظیمی اتحاد قائم کرنا اورکارکنوں کو انتخابی تیاریوں کے لیے متحرک کرنا سچ پائلٹ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوسکتا ہے۔ کانگریس کے لیے یہ تبدیلی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی، بی جے پی اورشرومنی اکالی دل سمیت دیگر سیاسی جماعتیں انتخابی سرگرمیاں تیزکرچکی ہیں۔ ایسے میں پارٹی ہائی کمان نے پنجاب میں نئی قیادت کے ذریعے تنظیمی اختلافات پر قابو پانے اورانتخابی میدان میں مضبوطی سے اترنے کی کوشش کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read