Bharat Express DD Free Dish

Bhupesh Baghel

سچن پائلٹ کے سامنے پنجاب میں سب سے بڑا چیلنج پارٹی کے مختلف گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پرلانا ہوگا۔ چرن جیت سنگھ چنی، راجا وڈنگ اور دیگراہم لیڈران کے درمیان اختلافات کے ماحول میں تنظیمی اتحاد قائم کرنا اور کارکنوں کو انتخابی تیاریوں کے لیے متحرک کرنا سچ پائلٹ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوسکتا ہے۔

پنجاب اسمبلی انتخابات سے پہلے کانگریس نے ریاستی تنظیم کو لے کر صورتحال واضح کر دی ہے۔ پارٹی نے ریاستی قیادت میں تبدیلی کی قیاس آرائیوں پر روک لگاتے ہوئے اب تنظیم کی توسیع پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنائی دی اور دھواں آسمان میں پھیل گیا۔ واقعے کے فوراً بعد ایمبولینس کے ذریعے مزدوروں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ دھماکے کی اصل وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

ای ڈی نے خصوصی عدالت میں آخری استغاثہ شکایت داخل کی تھی، جس میں 59 نئے افراد کو ملزم بنایا گیا، جس کے بعد کل ملزمان کی تعداد 81 ہو گئی۔ تفتیش کے مطابق یہ گھوٹالہ 2019 سے 2022 کے درمیان ہوا، جب ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی۔

کانگریس کو امید ہے کہ ان لیڈران کی موجودگی اور عوامی رابطہ مہم پارٹی کو دوسرے مرحلے میں مضبوطی فراہم کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ بہار میں اسمبلی انتخاب 2025 کے دوسرے مرحلے کے لیے 11 نومبر کو ووٹنگ ہوگی اور 14 نومبر کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ اسی کے ساتھ انتخابی نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

چھتیس گڑھ کے سابق وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل کے بیٹے چیتنیہ بگھیل کوانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ٹیم اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوگئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی شراب گھوٹالہ میں منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔

  بھوپیش بگھیل نے "ایکس" پر لکھا:ای ڈی آ گئی۔ آج اسمبلی اجلاس کا آخری دن ہے۔ اڈانی کے لیے تمنار میں کاٹے جا رہے درختوں کا معاملہ آج اٹھنا تھا۔ بھلائی رہائش گاہ پر ’صاحب‘ نے ای ڈی بھیج دی ہے۔

اس سے قبل بھی ای ڈی کی ٹیم نے اسی وقت اسی طرح چھاپہ مارا تھا۔ سی بی آئی نے سی ڈی اسکینڈل معاملے میں نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ اس معاملے میں عدالت نے بھوپیش بگھیل کو ڈسچارج کر دیا تھا اور نظر ثانی درخواست کی سماعت 4 اپریل کو ہونی ہے۔

کانگریس نے کہا ہے کہ بی جے پی کے کہنے پر ای ڈی کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور سابق وزیر اعلی بھوپیش بگھیل کی بھیلائی رہائش گاہ پہنچی ہے۔

کرناٹک کے سینئر لیڈر بی کے ہری پرساد کو ہریانہ کا انچارج اور راجستھان کے سینئر لیڈر ہریش چودھری کو مدھیہ پردیش کا انچارج بنایا گیا ہے۔ میناکشی نٹراجن کو تلنگانہ کا انچارج بنایا گیاہے۔ رجنی پاٹل کو ہماچل پردیش، چندی گڑھ کا انچارج بنایا گیا ہے۔