Bharat Express DD Free Dish

Punjab Congress

سچن پائلٹ کے سامنے پنجاب میں سب سے بڑا چیلنج پارٹی کے مختلف گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پرلانا ہوگا۔ چرن جیت سنگھ چنی، راجا وڈنگ اور دیگراہم لیڈران کے درمیان اختلافات کے ماحول میں تنظیمی اتحاد قائم کرنا اور کارکنوں کو انتخابی تیاریوں کے لیے متحرک کرنا سچ پائلٹ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوسکتا ہے۔

راہل گاندھی امرتسر میں دربار صاحب میں حاضری دینے کے بعد پنجاب کانگریس کے تمام بڑے لیڈروں کے ساتھ بس یاترا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق راہل گاندھی کی یہ بس یاترا امرتسر سے شروع ہوکر حسین والا تک تقریباً 135 کلومیٹر کا سفر طے کرسکتی ہے۔

پنجاب اسمبلی انتخابات سے پہلے کانگریس نے ریاستی تنظیم کو لے کر صورتحال واضح کر دی ہے۔ پارٹی نے ریاستی قیادت میں تبدیلی کی قیاس آرائیوں پر روک لگاتے ہوئے اب تنظیم کی توسیع پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چرن جیت سنگھ چنّی کا کہنا ہے کہ امریندر راجا وڈنگ کی جگہ کسی اور کو کمان دی جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں چرن جیت سنگھ چنی نے کہا، "اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو میں اور میرے خیمے کے لیڈران گھربیٹھ جائیں گے۔" اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ سابق وزیراعلیٰ کی دھمکی کا پارٹی ہائی کمان پر کیا اثر ہوتا ہے اور آئندہ پنجاب اسمبلی الیکشن سے پہلے اس طرح کی لڑائی سے پارٹی پر کتنا اثرپڑے گا۔

 پنجاب کانگرس میں تنظیم میں تبدیلی سے متعلق پارٹی صدرملیکا ارجن کھڑگے کی بنائی گئی کمیٹی نے کانگریس ہائی کمان کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی نے تقریباً 70 لیڈران سے بات چیت کرکے ان کی رائے معلوم کی ہے۔ اب ہائی کمان کی طرف سے اسے عوامی کیا جائے گا اور نئی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

پنجاب کانگریس کے اندرجاری اندرونی کشمکش کو دور کرنے کے لئے دہلی میں ایک اہم میٹنگ ہونے والی ہے۔ ہائی کمان نے امریندرسنگھ راجا وڈنگ اور چرنجیت سنگھ چنی سمیت کئی سینئر لیڈروں کوطلب کیا ہے۔ اس میٹنگ میں ذات پات کی سیاست کے تنازعہ اور 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

پنجاب اسمبلی انتخابات کے بعد سے ہی ریاستی کانگریس کے اندر اندرونی لڑائی اور دھڑے بندی کی خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں۔ کئی بار یہ اندرونی کشمکش عوام کے سامنے آئی، جس کی وجہ سے پارٹی کی شبیہ داغدار ہوئی۔

مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر نے ہرمندر سنگھ جسی کا بی جے پی میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت سے متاثر ہو کر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔

نوجوت سنگھ سدھو پارٹی کی میٹنگ میں شامل نہیں ہو رہے ہیں بلکہ وہ مسلسل میٹنگ کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف پنجاب کانگریس میں اختلاف بڑھتا جا رہا ہے۔