کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے ابتدائی رجحانات نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی دو اہم رہنما مہوا موئترا اور سیانی گھوش نے انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا، تاہم مجموعی نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اکثریت کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے مقابلہ نہایت دلچسپ ہو گیا ہے۔ مہوا موئترا نے اپنے لوک سبھا حلقہ کرشن نگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر خصوصی توجہ دی۔ ابتدائی راؤنڈز میں کرشن نگر نارتھ سیٹ پر بی جے پی کو برتری حاصل تھی، لیکن تازہ رجحانات میں ترنمول کانگریس نے معمولی سبقت حاصل کر لی ہے۔ اسی طرح کریم پور، جو مہوا کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے، وہاں بھی ٹی ایم سی امیدوار آگے چل رہے ہیں، جو ان کی مہم کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
تیہٹہ اور پلاشی پاڑہ اسمبلی حلقوں میں بھی ٹی ایم سی نے ابتدائی مرحلے سے ہی سبقت بنائے رکھی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان علاقوں میں مہوا موئترا کی سرگرمیوں نے پارٹی کو فائدہ پہنچایا اور ووٹروں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی مہم نے کم از کم مقامی سطح پر مثبت اثر چھوڑا ہے۔ دوسری جانب سیانی گھوش نے شہری اور نوجوان ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کولکاتا، ہگلی اور آسن سول بیلٹ میں بھرپور مہم چلائی۔ ان کا فوکس خاص طور پر ان حلقوں پر تھا جہاں نوجوان ووٹرز کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کی جارحانہ انتخابی حکمت عملی نے کئی علاقوں میں ٹی ایم سی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا۔
بھوانی پور سیٹ، جو ریاست کی سب سے اہم اور ہائی پروفائل نشستوں میں شمار ہوتی ہے، وہاں سیانی گھوش نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے حق میں بھرپور مہم چلائی۔ ابتدائی گنتی میں ممتا بنرجی پیچھے تھیں، لیکن بعد کے راؤنڈز میں انہوں نے بی جے پی کے سویندو ادھیکاری پر سبقت حاصل کر لی، جس سے مقابلہ مزید سنسنی خیز ہو گیا۔ آسن سول ساؤتھ سیٹ پر سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان براہ راست ٹکر ہے۔ سیانی گھوش کی مہم کے باوجود یہاں فی الحال بی جے پی کو برتری حاصل ہے۔ یہ صنعتی علاقہ ہمیشہ سے سیاسی لحاظ سے اہم رہا ہے اور اس بار بھی یہاں کا نتیجہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
جادو پور میں، جہاں سیانی گھوش کا ذاتی اثر و رسوخ مضبوط سمجھا جاتا ہے، ٹی ایم سی امیدوار واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ یہاں نوجوان اور شہری ووٹروں کی بڑی تعداد نے پارٹی کے حق میں ووٹ دیا، جس کا سہرا بڑی حد تک سائیانی کی مہم کو دیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مہوا موئترا اور سیانی گھوش کی انتخابی مہم نے کئی علاقوں میں ٹی ایم سی کو فائدہ ضرور پہنچایا، لیکن بی جے پی نے بھی سخت مقابلہ کرتے ہوئے کئی اہم نشستوں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔ نادیہ ضلع کی متعدد نشستوں پر ٹی ایم سی مضبوط نظر آ رہی ہے، جبکہ آسن سول جیسے علاقوں میں بی جے پی نے اپنی پوزیشن مستحکم رکھی ہے۔ یہ انتخابات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بنگال کی سیاست میں مقابلہ کس قدر سخت اور غیر یقینی ہو چکا ہے، جہاں ہر نشست پر کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور حتمی نتائج تک صورتحال بدلتی رہ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

