Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Assembly Election Results 2026

مغربی بنگال اسمبلی الیکشن 2026 میں بھوانی پور سیٹ پر ممتا بنرجی اور شوبھیندو ادھیکاری کے درمیان سخت مقابلہ ہوا تھا۔ اس سیٹ پر مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے جیت حاصل کی ہے۔ وہ ریاست میں بی جے پی حکومت کے پہلے وزیراعلیٰ بھی ہیں۔ اس سیٹ پرممتا بنرجی کو ہارکا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کوبڑی راحت دی ہے۔ ان کی اشتعال انگیز تقریر کے معاملے میں، عدالت نے فیصلہ دیا کہ پولیس 31 جولائی تک ان کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہیں کرسکتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ابھیشیک بنرجی ملک سے باہرنہیں جا سکتے اورنوٹس ملنے کے بعد ہر48 گھنٹے بعد ذاتی طورپرحاضر ہونا ضروری ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری ایک پوسٹ میں اشوک پنڈت نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی اور ان کے حامی مبینہ طور پر ”اینٹی انڈیا سلیپر سیل“ عناصر کے ساتھ مل کر سرگرم ہو گئے ہیں، جس کے باعث ریاست میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

مغربی بنگال پہنچے اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کو دیدی ہمیشہ سے کھٹکتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی نے ایک جنگجو کی طرح سے مقابلہ کیا ہے۔ ممتا بنرجی سے اکھلیش یادو کی میٹنگ سیاسی لحاظ سے بے حد اہم مانی جا رہی ہے۔ کیونکہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے نتائج آنے کے بعد اپوزیشن پارٹیاں اپنی حکمت عملی پر پھر سے غور کر رہی ہیں۔

بنگال میں بی جے پی کی پہلی بار حکومت بننے جا رہی ہے۔ بی جے پی نے ممتا بنرجی کے سب سے مضبوط قلعہ پرقبضہ کیا ہے۔ یہ جیت بی جے پی کے لئے صرف ایک ریاست کی جیت نہیں ہے بلکہ بی جے پی نے ایک بڑے خواب کو بھی مکمل کیا ہے۔ بی جے پی نے تقریباً 200 سیٹوں پر جیت حاصل کرلی ہے۔ اس طرح سے ممتا بنرجی کے لئے یہ بڑا جھٹکا ہے۔

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کے بارے میں سنگین الزامات لگائے ہیں، جن میں 100 سیٹوں پر ووٹوں میں دھاندلی اورای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ شامل ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر شدید تعصب کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’’جمہوریت کا قتل‘‘ قراردیا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی لڑائی صرف بی جے پی سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے بھی ہے۔ انہوں نے مستقبل کی حکمت عملی کے لئے فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔

مغربی بنگال، آسام سمیت ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چار مئی کی یہ شام ڈھل رہی ہے، لیکن بنگال کی سرزمین پر ایک نئی صبح کا آغاز ہو چکا ہے۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغامات میں کہا کہ یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی مسلسل محنت، تنظیمی مضبوطی اور زمینی سطح پر کارکنان کی جدوجہد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان نے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور عوام تک ترقی اور بہتر حکمرانی کا پیغام پہنچایا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اور مستقل محنت کا نتیجہ ہیں۔ بی جے پی نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی تنظیم کو مضبوط کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی مؤثر انداز میں اٹھایا، جس کا فائدہ اسے اب ملتا دکھائی دے رہا ہے۔

بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے ابتدائی رجحانات نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی دو اہم رہنما مہوا موئترا اور سیانی گھوش نے انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا، تاہم مجموعی نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اکثریت کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے مقابلہ نہایت دلچسپ ہو گیا ہے۔