ممتا بنرجی نے بھوانی پور میں شوبھیندو ادھیکاری کی جیت کو کلکتہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ (فائل فوٹو)
مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی ہوگئی ہے۔ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے 15 سالہ اقتدارکا خاتمہ ہوگیا ہے اوربی جے پی نے آزادی کے بعد پہلی بارحکومت بنائی ہے۔ اس درمیان بھوانی پورمیں شوبھیندوادھیکاری کی جیت کوسابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے چیلنج کیا ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ میں ممتا بنرجی کی طرف سے عرضی داخل کی گئی ہے۔
قابل ذکرہے کہ منگل (16جون 2026) کی صبح سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اچانک ہائی کورٹ پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے اسمبلی الیکشن کے نتائج کو چیلنج کیا ہے۔ ممتا بنرجی کے ساتھ ڈیریک اوبرائن، ڈولا سینا اورکلیان بنرجی بھی موجود تھے۔ رپورٹ کے مطابق، عرضی کے دستاویزپر دستخط کرنے ممتا بنرجی ہائی کورٹ پہنچی تھیں۔
15 ہزار ووٹوں سے ممتا بنرجی کو شکست کا سامنا
حال ہی میں ہوئے مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں بھوانی پورسیٹ سے ممتا بنرجی اورشوبھیندوادھیکاری کے درمیان سخت ٹکرتھی۔ اس سیٹ پرمغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے جیت حاصل کی ہے۔ وہ ریاست کی بی جے پی حکومت کے پہلے وزیراعلیٰ بھی ہیں۔ اس سیٹ پرممتا بنرجی کوہارکا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کانٹے کی ٹکراس سیٹ پردیکھنے کوملی۔ شوبھیندوادھیکاری نے اس سیٹ پرممتا بنرجی کوتقریباً 15 ہزارووٹوں سے شکست دی تھی۔ جہاں ایک طرف شوبھیندوادھیکاری کو73917 ووٹ ملے تووہیں ممتا بنرجی کو58812 ووٹ ملے تھے۔
مشکل وقت سے گزر رہی ہے ٹی ایم سی
ٹی ایم سی کے 20 اراکین پارلیمنٹ نے حال ہی میں نیشنل سٹیزنس پارٹی (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا ہے۔ اس سے ممتا بنرجی کوبڑا جھٹکا لگا ہے۔ باغی 20 اراکین پارلیمنٹ نے اتوار کے روز اس پارٹی میں انضمام کا اعلان کردیا تھا۔ سبھی نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے اتوار کے روز ملاقات کرتے ہوئے میمورنڈم بھی سونپا۔ اس پرباغی کاکولی گھوش نے کہا تھا کہ اسپیکر سے ملے اس باغی گروپ میں 20 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ ان کی تعداد پارٹی کی کل دوتہائی سے زیادہ ہے۔ حال ہی میں اختتام پذیر مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں ٹی ایم سی کو زبردست ہارکا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے بعد سے مسلسل ٹی ایم سی کے اندرزبردست انتشارنظرآرہا ہے۔ یہاں کئی اراکین پارلیمنٹ نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے دیگرپارٹی میں انضمام کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


