Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation Bill: وزیر اعظم مودی کی اپوزیشن سے اپیل، خواتین بل اور حلقہ بندی پر سیاست نہ کی جائے

لوک سبھا میں اس اہم بحث کے دوران تازہ ووٹنگ میں 333 اراکین میں سے 207 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 126 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت اس بل کو آئینی ترمیم کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل اور حلقہ بندی سے متعلق مجوزہ قانون پر شدید سیاسی کشمکش دیکھنے میں آئی، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث جاری رہی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی جیسے اہم قومی معاملات کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے۔ لوک سبھا میں اس اہم بحث کے دوران تازہ ووٹنگ میں 333 اراکین میں سے 207 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 126 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت اس بل کو آئینی ترمیم کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔

آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے صرف سادہ اکثریت کافی نہیں ہوتی، بلکہ ایوان کی کل تعداد کی اکثریت کے ساتھ ساتھ موجود اور ووٹ ڈالنے والے ارکان میں دو تہائی حمایت بھی ضروری ہوتی ہے۔ موجودہ وقت میں لوک سبھا کی مؤثر طاقت 540 ارکان پر مشتمل ہے، کیونکہ تین نشستیں خالی ہیں۔ اس لحاظ سے کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے کم از کم 360 ووٹ درکار ہوں گے۔ حکومت کے زیر قیادت قومی جمہوری اتحاد کے پاس اس وقت تقریباً 292 ارکان ہیں، جس سے اسے سادہ اکثریت تو حاصل ہے، لیکن دو تہائی اکثریت کے لیے اسے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔ دوسری طرف انڈیا اتحاد کے پاس تقریباً 229 نشستیں ہیں، جبکہ چند آزاد اور چھوٹی جماعتوں کے ارکان بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بحث کے دوران وزیر اعظم مودی نے خواتین ریزرویشن بل کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو سیاسی نمائندگی دینا ان کا آئینی حق ہے اور اس میں مزید تاخیر مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو سیاسی فائدے یا نقصان کے پیمانے پر نہیں تولنا چاہیے بلکہ اسے جمہوریت کو مضبوط بنانے کے ایک تاریخی قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو جماعتیں اس قانون کی مخالفت کریں گی، انہیں مستقبل میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور خواتین کے حقوق کے معاملے پر سیاست کرنا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حلقہ بندی کے دوران کسی بھی ریاست یا طبقے کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

ادھر اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کرنے والی پارٹیوں نے حلقہ بندی کے مجوزہ منصوبے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آبادی کی بنیاد پر نئی حلقہ بندی سے اتر پردیش اور بہار جیسے شمالی ریاستوں کو زیادہ نمائندگی مل سکتی ہے، جبکہ جنوبی ریاستوں کی سیاسی طاقت کم ہو سکتی ہے، جس سے وفاقی ڈھانچے پر اثر پڑے گا۔ حکومت کا منصوبہ لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کا ہے، تاکہ 2023 میں منظور ہونے والے خواتین ریزرویشن قانون کو مکمل طور پر نافذ کیا جا سکے۔ یہ قانون ابھی تک حلقہ بندی کا عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے نافذ نہیں ہو سکا ہے۔ پارلیمنٹ میں جاری اس بحث نے واضح کر دیا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل صرف ایک قانون نہیں بلکہ آنے والے دنوں کی سیاست کا اہم محور بن چکا ہے، جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں نظر آ رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read