اترپردیش کے مشہورلکھیم پورکھیری تشدد معاملے میں گواہوں کودھمکانے کے الزام سے متعلق پولیس نے سابق مرکزی وزیراجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کوکلین چٹ دے دی ہے۔ جمعرات کوسپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ریاستی پولیس نے کہا کہ تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس سے یہ ثابت ہوکہ آشیش مشرا یا ان کے والد اجے مشرا ٹینی گواہوں کو ڈرانے یا دھمکانے میں ملوث تھے۔ معاملے کی آئندہ سماعت اگلے ماہ ہوگی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جائے مالا باغچی اورجسٹس وی موہن پرمشتمل بنچ آشیش مشرا کی ضمانت سے متعلق درخواست پرسماعت کررہا تھا۔ اس دوران ریاست کی جانب سے عدالت میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ گواہوں کودھمکانے سے متعلق درج ایف آئی آرکی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اورآشیش مشرا کے خلاف کوئی قابلِ اعتبارثبوت نہیں ملا۔
عدالت نے اسٹیٹس رپورٹ کو ریکارڈ پرلیا
سپریم کورٹ نے پولیس کی اسٹیٹس رپورٹ کوریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے نوٹ کیا کہ اس معاملے میں امن دیپ سنگھ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے اورمتعلقہ عدالت نے اس کا نوٹس بھی لے لیا ہے۔ تاہم اجے مشرا ٹینی، آشیش مشرا اوردیگرافراد کے مبینہ کردارکے حوالے سے تفتیشی ایجنسی اس نتیجے پرپہنچی کہ ان کے خلاف شواہد موجود نہیں ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس مقدمے میں اب بھی 64 گواہوں سے پوچھ گچھ ہونا باقی ہے، جس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
حلف نامہ داخل کرنے کے لئے دو ہفتے کی مہلت
سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ کوپولیس کی اسٹیٹس رپورٹ کے جواب میں اضافی حلف نامہ داخل کرنے کے لیے دوہفتے کا وقت دیا ہے۔ واضح رہے کہ گواہوں کودھمکانے کے الزام میں اتر پردیش پولیس نے گزشتہ سال اکتوبر2025 میں ایف آئی آردرج کی تھی۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی تھی، جب سپریم کورٹ نے پولیس کوسخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ بلجیندرسنگھ کی شکایت پرکوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ حالانکہ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ انہیں اپنا بیان واپس لینے کی دھمکی دی گئی تھی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کی ہدایت پرایک سینئرپولیس افسرپنجاب کے ضلع مکتسرپہنچا اورشکایت کنندہ کا بیان ریکارڈ کیا۔ اس کے بعد تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) 1860 کے دفعات 195-اے، 506 اور120-بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
2021 کے لکھیم پورکھیری تشدد سے جڑا ہے معاملہ
یہ مقدمہ 3 اکتوبر2021 کواترپردیش کے ضلع لکھیم پورکھیری میں پیش آئے تشدد سے متعلق ہے، جس میں 4 کسانوں سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ الزام ہے کہ آشیش مشرا سے منسلک قافلے کی گاڑیوں نے احتجاج کرنے والے کسانوں کوکچل دیا تھا، جس کے بعد تشدد بھڑک اٹھا۔ آشیش مشرا اس مرکزی مقدمے میں بھی ملزم ہیں اوراس وقت سپریم کورٹ سے ملی ضمانت پر جیل سے باہرہیں۔ حالانکہ اس مقدمے کی سماعت جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


