کرناٹک حکومت میں وزیر پریانک کھڑگے۔
بنگلورو: کرناٹک میں حجاب تنازع ایک بار پھر سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا کے اس بیان کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا، جس میں انہوں نے تعلیمی اداروں میں پگڑی، کڑا، تلک، بھسم، کلاوا اور ہیڈ اسکارف جیسے مذہبی نشانات پہننے کے حق کی حمایت کی۔ حالانکہ، بھگوا شال کو اس سے الگ قرار دیا۔
کانگریس حکومت کا واضح موقف
ریاستی حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے نے کہا کہ کانگریس حکومت نے کسی بھی ڈریس کوڈ کو ختم نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت صرف آئین کی جانب سے دیے گئے مذہبی حقوق کو یکساں مقام دینے کی بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے ڈریس کوڈ واپس نہیں لیا۔ ہم نے صرف اتنا کہا ہے کہ آئین جن مذہبی روایات کی اجازت دیتا ہے، انہیں معاشرے میں برابر کی جگہ ملنی چاہیے۔ چاہے وہ پگڑی ہو، کڑا، تلک، بھسم، کلاوا یا ہیڈ اسکارف، اس میں کسی کنفیوژن کی گنجائش نہیں ہے۔”
بی جے پی کو عدالت جانے کا مشورہ
پریانک کھڑگے نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی کو اس معاملے پر اعتراض ہے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ بھگوا شال اور حجاب کے مسئلے کو الگ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’بھگوا شال کوئی مذہبی روایت نہیں ہے۔ بی جے پی کو نوجوانوں کی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔ کانگریس اور کرناٹک حکومت بچوں کا مستقبل تعلیم کے ذریعے سنوارنا چاہتی ہے۔ اگر بی جے پی بچوں کو گئو رکشک اور دھرم رکشک بنانا چاہتی ہے تو وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایسا کرے۔”
جماعتِ اسلامی ہند نے بھی کی فیصلے کی حمایت
جماعتِ اسلامی ہند کے ریاستی سکریٹری محمد یوسف کنی نے بھی حکومت کے فیصلے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت ’تنوع میں اتحاد‘ ہے اور تمام برادریوں نے ملک کی آزادی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق حجاب سے متعلق پابندیاں ختم ہونے سے تعلیم تک رسائی اور سماجی شمولیت کو فروغ ملے گا۔
کانگریس کا بی جے پی پر فرقہ وارانہ سیاست کا الزام
کانگریس کے ترجمان ناصر نے بی جے پی پر ہندو-مسلم سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا، ’’کانگریس حکومت نے حجاب کو کوئی خصوصی اجازت نہیں دی ہے۔ یہ آئین کی جانب سے دیا گیا حق ہے۔ اگر کوئی لڑکی حجاب پہن کر تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟”
عمران مسعود کا بھی حکومت کی حمایت کا اعلان
کانگریس رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود نے بھی اس معاملے میں حکومت کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا، “سر ڈھانپنا اور پردہ کرنا بھارتی ثقافت کا حصہ ہے۔ آپ نے صرف اس کا اردو نام ’حجاب‘ رکھ دیا ہے۔ اگر اسے ’گھونگھٹ‘ کہا جاتا تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔” انہوں نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی حجاب پر سوال اٹھاتی ہے لیکن امتحانی پرچوں کے لیک ہونے جیسے سنگین مسائل پر بات نہیں کرنا چاہتی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



