Bharat Express DD Free Dish

Siddaramaiah

کرناٹک حکومت کے کابینہ توسیع سے متعلق کانگریس نے 20 وزرا کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ اس میں کئی نئے چہروں کو موقع دیا گیا ہے جبکہ کئی پرانے لیڈران بھی شامل ہیں۔

ڈی کے شیوکمارنے کرناٹک کے 25ویں وزیراعلیٰ کے طورپرحلف لیا۔ پارٹی صدرملیکا ارجن کھڑگے، راہل گاندھی، سابق وزیراعلیٰ سدارامیا سمیت کئی دیگراہم لیڈران موجود تھے۔ یہ حلف برداری تقریب سدارامیا کے استعفیٰ کے بعد منعقد کی گئی۔

ہلے ہی یہ تقریباً طے مانا جا رہا تھا کہ ڈی کے شیوکمار ہی کرناٹک کے اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ سی ایل پی کی میٹنگ میں شیوکمار کے نام پر مہر لگنے کے بعد ان کے کرناٹک کے اگلے وزیر اعلیٰ بننے کی راہ صاف ہو گئی ہے۔

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ نائب وزیراعلیٰ کے طور پر سدارامیا کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے ایک اعزاز رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سدارامیا کے تجربے، بصیرت اور دانشمندی سے انہیں مسلسل سیکھنے کا موقع ملا۔

دہلی پہنچنے کے بعد سدارمیا نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں کھڑگے سدارمیا کے کندھے پر ہاتھ رکھے نظر آ رہے ہیں۔ادھر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے تین نائب وزرائے اعلیٰ بنانے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔

جمعرات کی صبح سدارامیا کی سرکاری رہائش گاہ پر ایک اہم میٹنگ بلائی گئی تھی، جس میں ڈی کے شیوکمار بھی شریک ہوئے۔ اسی میٹنگ میں سدارامیا نے استعفے کا اعلان کیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سدارامیا کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گورنر کے دفتر میں اپنا استعفیٰ جمع کرائیں، چاہے گورنر اس وقت بنگلورو میں موجود نہ ہوں۔ پارٹی لیڈران نے واضح کیا کہ طے شدہ پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

ڈی کے شیوکمار کے حامیوں نے انہیں آئندہ وزیر اعلیٰ قرار دیتے ہوئے پوسٹرز لگانا اور سوشل میڈیا پر مبارکبادی پیغامات شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حالانکہ، کانگریس پارٹی کی جانب سے اب تک قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی دففتری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

کرناٹک میں ممکنہ قیادت کی تبدیلی کی خبروں کے درمیان دونوں لیڈران کے حامی سیاسی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس دوران کرناٹک کے وزیر ایم بی پاٹل نے کہا کہ وہ قیادت کی تبدیلی یا میٹنگ کے ممکنہ نتائج پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

ریاستی حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے نے کہا کہ کانگریس حکومت نے کسی بھی ڈریس کوڈ کو ختم نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت صرف آئین کی جانب سے دیے گئے مذہبی حقوق کو یکساں مقام دینے کی بات کر رہی ہے۔