سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر سیاسی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کے ترجمان آلوک شرما نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی مختلف اسکیموں اور وعدوں کو ’’ناکام‘‘ قرار دیتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی، جس پر معروف نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے طنزیہ انداز میں ردِعمل دیا۔ یہ پوسٹ سوشل میڈیا صارفین کے درمیان بحث و گفتگو کا موضوع بن گئی ہے۔
آلوک شرما نے کیا لکھا؟
آلوک شرما نے جمعرات (18 دسمبر) کو اپنی پوسٹ میں مودی حکومت کی کئی اہم اسکیموں پر تنقید کی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا ’’میک اِن انڈیا، خواتین کی حفاظت، سوچھ بھارت، نمامی گنگے، نوٹ بندی، آلودگی پر قابو، مہنگائی پر کنٹرول، 100 اسمارٹ سٹیز، بدعنوانی پر قابو، کالا دھن کی واپسی، 2023 تک بُلٹ ٹرین، روپے 40 فی ڈالر، ہر سال 2 کروڑ نوکریاں، کسانوں کی آمدنی دُگنی، بے روزگاری کم کرنا، ہر کھاتے میں 15 لاکھ روپے اور 2022 تک 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت جیسی اسکیموں کو ’’ناکام‘‘ قرار دیا۔ پوسٹ کے آخر میں انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا ’’مودی ہے تو ممکن ہے‘‘۔
Make in India : FAILED
Women Safety : FAILED
Swachh Bharat : FAILED
Namami Gange : FAILED
Demonetisation: FAILED
Pollution Control: FAILED
Inflation Control : FAILED
100 Smart Cities : FAILED
Corruption Control: FAILED
Black Money Return : FAILED
Bullet Train by 2023 : FAILED…— Alok Sharma (@Aloksharmaaicc) December 17, 2025
جاوید اختر کا جواب وائرل
کانگریس لیڈر آلوک شرما کی پوسٹ پر جاوید اختر نے 19 دسمبر کو جواب دیتے ہوئے ایکس پر لکھا ’’آلوک جی، آپ کا میسج نہیں کھل رہا ہے، براہِ کرم مجھے واٹس ایپ پر بھیج دیں‘‘۔ یہ ردِعمل واضح طور پر طنزیہ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آلوک شرما کی پوسٹ صاف طور پر نظر آ رہی ہے۔ صارفین نے اس تبصرے کو مودی حکومت پر تنقید کے ’’نہ کھلنے‘‘ یا ’’ناکام‘‘ ہونے کے طور پر تعبیر کیا۔ جاوید اختر کی اس پوسٹ پر کئی صارفین نے کمنٹس میں تعریف کی۔ ایک صارف نے لکھا ’’لوگ جاوید صاحب کے طنز کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں،‘‘ جبکہ ایک اور نے کہا ’’طنز قابلِ تعریف ہے، وہ (کانگریس اور اپوزیشن) صرف سوشل میڈیا پر بات کرتے ہیں، زمین پر نہیں‘‘۔
Alok ji your message is not opening . Could you please send it me on WhatsApp
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) December 19, 2025
آلوک شرما کی اصل پوسٹ کو اب تک 9 ہزار سے زائد لائکس، 2 ہزار ری پوسٹس اور لاکھوں ویوز مل چکے ہیں، جبکہ جاوید اختر کا ردِعمل بھی تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر سیاسی طنز اور بحث کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے، جہاں مشہور شخصیات اور سیاست دان ایک دوسرے پر نشانہ سادھتے نظر آتے ہیں۔ اس معاملے پر کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان بحث جاری ہے، تاہم دونوں جماعتوں کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



