نئی دہلی: شمالی بھارت اس وقت شدید سردی اور گھنے کہرے کے دوہرے حملے کی زد میں ہے، جس نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں تازہ برفباری کے بعد میدانی علاقوں میں سرد ہواؤں، شبنمی لہر اور کہرے نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دہلی، اتر پردیش، بہار، پنجاب اور ہریانہ میں درجہ حرارت میں نمایاں گراوٹ درج کی جا رہی ہے، جبکہ مرئیت (ویجیبلٹی) کم ہونے کے باعث ریل، سڑک اور فضائی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 27 دسمبر تک سردی اور کہرے کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
پہاڑی علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کشمیر کی وادیوں میں طویل انتظار کے بعد برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس سے پورا علاقہ برف کی سفید چادر میں ڈھک گیا ہے۔ سیاحوں کے لیے یہ منظر خوش کن ضرور ہے، مگر مقامی آبادی کے لیے روزمرہ زندگی مشکل بن گئی ہے۔ اسی طرح ہماچل پردیش کے بلند علاقوں میں بھی برفباری جاری ہے، جس کے باعث سڑکیں بند اور آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔ پہاڑوں سے ٹکرا کر آنے والی سرد ہوائیں اب میدانی علاقوں کا رخ کر رہی ہیں، جس سے پنجاب، ہریانہ اور دہلی میں شدید ٹھنڈ پڑ رہی ہے۔ موسمی ماہرین کے مطابق اس وقت شمال مغربی بھارت میں ’ویسٹرن ڈسٹربنس‘ اور ’جیٹ اسٹریم‘ خاصے فعال ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف سردی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ گھنا کہر بھی چھا گیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کئی علاقوں میں دن کے وقت بھی دھوپ نکلنے کے آثار کم نظر آ رہے ہیں اور سردی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے۔
دہلی-این سی آر میں لوگوں کو سردی کے ساتھ ساتھ آلودگی کی دوہری مار کا سامنا ہے۔ دارالحکومت دہلی میں صبح کے وقت اتنی گھنی دھند رہی کہ چند میٹر سے زیادہ دیکھنا مشکل ہو گیا۔ نوئیڈا، غازی آباد اور گروگرام میں بھی درجہ حرارت مسلسل نیچے جا رہا ہے۔ موسمی اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت تقریباً 10 ڈگری سیلسیس جبکہ گروگرام میں یہ 8 ڈگری سیلسیس تک گر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) ’انتہائی خراب‘ درجے میں برقرار ہے، جس کی وجہ سے سانس کے مریضوں اور بزرگوں کو خاصی پریشانی کا سامنا ہے۔ کہرے کا سب سے زیادہ اثر ٹرانسپورٹ سسٹم پر پڑا ہے۔ اتر پردیش اور بہار کے کئی اضلاع میں مرئیت (ویجیبلٹی) 500 میٹر یا اس سے بھی کم ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں متعدد ٹرینیں تاخیر سے چل رہی ہیں، جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی رفتار سست ہو گئی ہے۔ بہار اور مشرقی اتر پردیش میں ’کولڈ ڈے‘ جیسی صورتحال بن گئی ہے، جہاں دن بھر سورج نظر نہیں آ رہا اور سردی کی شدت برقرار ہے۔
اگر میدانی علاقوں میں سب سے زیادہ سرد مقام کی بات کی جائے تو پنجاب کا گرداس پور اس وقت سرِفہرست ہے، جہاں درجہ حرارت 5 ڈگری سیلسیس تک گر چکا ہے۔ حیران کن طور پر شمالی بھارت کے علاوہ مہاراشٹر اور کرناٹک جیسے ریاستوں میں بھی معمول سے کم درجہ حرارت درج کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں گجرات اور مہاراشٹر میں بھی سردی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سال کا آخری ہفتہ پورے ملک کے لیے سردیوں کا اصل امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گرم کپڑے استعمال کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کہرے کے دوران گاڑی چلاتے وقت خصوصی احتیاط برتیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



