Bharat Express DD Free Dish

Cold

وزارت کے مطابق اگر کوئی شخص سوائن فلو یا ایچ ون این ون انفیکشن کا شکار ہوجائے تو گھبرانے کے بجائے مناسب احتیاطی اقدامات کرنا ضروری ہے۔ مریض کو ڈاکٹر کی نگرانی میں رہنا چاہیے اور صحت یابی کے دوران مناسب آرام کے ساتھ غذائیت سے بھرپور غذا کا استعمال کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔

شمالی بھارت اس وقت شدید سردی اور گھنے کہرے کے دوہرے حملے کی زد میں ہے، جس نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں تازہ برفباری کے بعد میدانی علاقوں میں سرد ہواؤں، شبنمی لہر اور کہرے نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

دسمبر کے مہینہ میں سردی بڑھ گئی ہے اور سردی کی وجہ سے لوگوں کا جینا مشکل ہو رہا ہے۔ کشمیر اور ہماچل پردیش کی پہاڑیوں پر حالیہ برف باری اور بارش کے بعد اس کا براہِ راست اثر اب شمالی ہند کے میدانی علاقوں میں نظر آنے لگا ہے۔ پہاڑوں سے چلنے والی برفیلی ہواؤں نے دہلی، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور بہار سمیت کئی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث سردی میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔

ریناز سنڈروم میں ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کی خون کی باریک نالیاں سردی لگتے ہی سکڑ جاتی ہیں۔ اس کے باعث خالص خون اور آکسیجن انگلیوں تک کم پہنچتی ہے۔ آکسیجن کی کمی ہونے پر انگلیاں پہلے سفید، پھر نیلی اور بعد میں سرخ ہو جاتی ہیں۔

آیوروید کے مطابق، زکام اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں کَف بڑھ جاتا ہے اور مدافعتی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔ جدید طب کے مطابق، یہ ایک وائرل انفیکشن ہے جو زیادہ تر رائنو وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب یہ وائرس ہوا یا چھینک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں تو جسم میوکس پیدا کرکے اپنی حفاظت کرتا ہے، جس سے ناک بہنے اور چھینکنے لگتی ہے۔

تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو بحفاظت ناک کے قطرے دے سکتے ہیں، جس سے وہ عام سردی پر کچھ قابو پا سکتے ہیں۔ والدین کو ان کے بچوں اور خاندان پر سردی کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے ایک محفوظ اور عملی طریقہ فراہم کرنے سے عام بیماری سے جلد راحت ملے گی اور ادویات کے اخراجات بھی کم ہوں گے۔

شدید دھند  او رکہرے کے ساتھ سردی کی لہر جاری ہے۔ دہلی این سی آر میں درجہ حرارت دس ڈگری سے کم ہے۔ موسم کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے اسکولوں کی چھٹیوں میں توسیع کر دی ہے۔

راجستھان میں لوگ سردی کی تباہ کاریوں سے پریشان ہیں۔ راجستھان کے کچھ حصوں میں ہفتہ کو کم سے کم درجہ حرارت میں زبردست گراوٹ آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فتح پور منفی 3.5 ڈگری سیلسیس کے ساتھ سب سے سرد رہا، اس کے بعد چورو منفی 0.7 ڈگری اور بیکانیر 1.1 ڈگری رہا۔ محکمہ موسمیات نے بیکانیر، چورو، گنگا نگر، سیکر اور پیلانی میں سردی کی لہر کی وارننگ جاری کی ہے

New Delhiہندوستان بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق آج ملک بھر موسم سرد اور خشک رہے گا۔ دسمبر کا پہلا ہفتہ گزرنے کے ساتھ ہی ملک بھر میں سردی بڑھنے لگی ہے۔ موسم سرما اب کئی حصوں میں اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ ہمالیائی خطوں میں …