Bharat Express DD Free Dish

Cold in Delhi

شمالی بھارت اس وقت شدید سردی اور گھنے کہرے کے دوہرے حملے کی زد میں ہے، جس نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں تازہ برفباری کے بعد میدانی علاقوں میں سرد ہواؤں، شبنمی لہر اور کہرے نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

دسمبر کے مہینہ میں سردی بڑھ گئی ہے اور سردی کی وجہ سے لوگوں کا جینا مشکل ہو رہا ہے۔ کشمیر اور ہماچل پردیش کی پہاڑیوں پر حالیہ برف باری اور بارش کے بعد اس کا براہِ راست اثر اب شمالی ہند کے میدانی علاقوں میں نظر آنے لگا ہے۔ پہاڑوں سے چلنے والی برفیلی ہواؤں نے دہلی، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور بہار سمیت کئی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث سردی میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔

اس سال موسمِ سرما نے توقع سے پہلے ہی دستک دے دی ہے۔ نومبر کے آغاز سے قبل ہی شمالی اور مشرقی ہند کے کئی علاقوں میں ٹھنڈی ہواؤں، بارش اور صبح کی دھند نے سردی کا احساس بڑھا دیا ہے۔ عام طور پر سردی کا آغاز دسمبر میں ہوتا ہے، لیکن اس بار اکتوبر کے اختتام تک ہی درجۂ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

صفدرجنگ آبزرویٹری، دہلی کے اہم موسمیاتی مرکز میں صبح 5.30 بجے حد نگاہ 200 میٹر تھی۔ ریلوے کے مطابق دھند کی وجہ سے دہلی آنے والی 18 ٹرینیں ایک سے چھ گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئیں۔

راجستھان میں لوگ سردی کی تباہ کاریوں سے پریشان ہیں۔ راجستھان کے کچھ حصوں میں ہفتہ کو کم سے کم درجہ حرارت میں زبردست گراوٹ آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فتح پور منفی 3.5 ڈگری سیلسیس کے ساتھ سب سے سرد رہا، اس کے بعد چورو منفی 0.7 ڈگری اور بیکانیر 1.1 ڈگری رہا۔ محکمہ موسمیات نے بیکانیر، چورو، گنگا نگر، سیکر اور پیلانی میں سردی کی لہر کی وارننگ جاری کی ہے

شمالی ہندوستان میں پچھلے کچھ دنوں میں سردی کا زور بہت بڑھ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سردی کی لہر کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تاہم آئندہ چند روز میں سردی کی لہر میں کمی کا امکان ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق 24 گھنٹوں کے بعد شمال مغربی بھارت میں سردی کی لہر اور سردی میں کمی دیکھی جا سکتی ہے

 آلودگی کی وجہ سے سانس لینے میں پریشانی ہورہی ہے۔ وہیں دوسری طرف کہرے کی وجہ سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں ہورہا ہے۔ٹریفک کافی سست رفتار سے چل رہا ہے۔ صبح کے وقت کوہرا کافی گھنا ہونے کی وجہ سے ٹریفک میں کافی دقت ہو رہی ہے۔ ہماچل اور جموں کشمیر کی اونچائی والے علاقوں میں برفباری کا اثر نِچلےعلاقوں  میں صاف  طور  دکھائی دے رہاہے