ہندوستان نے پیر کے روز اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی جانب سے جموں و کشمیر کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے ان بیانات کو ’’بے بنیاد، غیر ضروری اور حقائق کے برعکس‘‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ او آئی سی کو ہندوستان کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ واضح رہے کہ او آئی سی کا 51واں وزرائے خارجہ کا اجلاس 21 اور 22 جون کو ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا، جہاں 147 قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں ’’استنبول اعلامیہ‘‘ بھی شامل ہے۔ ہندوستان نے تنظیم پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاکستان کے سیاسی مفادات کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ بیانات، جو کہ پاکستان کی جانب سے تنظیم پر مسلط کیے گئے ہیں، ایک ایسا ملک جو دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا چکا ہے، اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ او آئی سی کا پلیٹ فارم کس طرح بار بار سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔‘‘ ہندوستان نے او آئی سی کی اس خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو پاکستان سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے تنظیم نے اختیار کر رکھی ہے۔ وزارت خارجہ نے حالیہ پہلگام حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ او آئی سی جان بوجھ کر زمینی حقائق اور عالمی انسداد دہشت گردی کے اتفاقِ رائے کو نظرانداز کر رہی ہے۔
جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ، او آئی سی پاکستانی پروپیگنڈے کو نہ دے فروغ: وزارتِ خارجہ
ہندوستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور خودمختار حصہ ہے۔ ساتھ ہی اس نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پروپیگنڈے کو فروغ دینا او آئی سی کی ساکھ اور افادیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ وزارت خارجہ نے پاکستان کے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا کہ ہندوستان کی جانب سے ’’بلا جواز فوجی جارحیت‘‘ کی گئی۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’آپریشن سندور‘‘ دراصل پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کے اپنے دفاع کے قانونی حق کے مطابق تھا۔
وزارت خارجہ نے پاکستان کے اس دعوے کو بھی جھوٹا قرار دیا کہ اس نے صرف ہندوستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی جوابی کارروائی میں عام شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑیں اور ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔ ہندوستان نے پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کے معاملات پر بیان دینے کی کوشش کو بھی دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا ملک جو خود مذہبی اقلیتوں پر ظلم کرتا ہے، وہ دوسروں کو انسانی حقوق کا سبق نہیں پڑھا سکتا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


