نئی دہلی: وزیراعظم نریندرمودی نے لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یومِ آزادی کی تقریب سے قوم سے خطاب کیا۔ وہیں کانگریس صدرملکارجن کھگے اورلوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اس باربھی لال قلعہ پرمنعقدہ یومِ آزادی کی تقریب میں شامل نہیں ہوئے۔
کانگریس صدرملکارجن کھرگے اورراہل گاندھی مسلسل دوسرے سال لال قلعہ پرمنعقد ہونے والی یومِ آزادی کی تقریب سے غیرحاضررہے۔ اس سال بھی وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں 80ویں یومِ آزادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، تقریب میں نشستوں کے انتظام سمیت کئی معاملات میں کانگریس کے رہنماؤں کے ساتھ مبینہ طورپرتوہین آمیزسلوک کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے دونوں رہنما مسلسل دوسرے سال اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔
2024 میں پیدا ہوا تھا تنازع
دراصل یہ تنازع 2024 میں یومِ آزادی کی تقریب کے دوران پیدا ہوا تھا۔ اس وقت راہل گاندھی لال قلعہ پرمنعقدہ تقریب میں روایت اورپروٹوکول سے ہٹ کر دوسری آخری قطار میں بیٹھے نظر آئے تھے۔ راہل گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہیں اورانہیں کابینی وزیر کا درجہ حاصل ہے۔ اپوزیشن نے کانگریس رکن پارلیمنٹ کو اس نشست پر بٹھائے جانے کو ملک کے عوام کی توہین قرار دیا تھا۔
وزارتِ دفاع نے کیا کہا تھا؟
اس وقت تقریب کے انعقاد کی ذمہ داری سنبھالنے والی وزارتِ دفاع نے وضاحت کی تھی کہ اولمپک کھلاڑیوں کے لیے جگہ بنانے کی غرض سے نشستوں کے انتظام میں معمولی تبدیلی کی گئی تھی۔ پروٹوکول کے مطابق سرکاری تقریبات میں اپوزیشن لیڈر کو پہلی قطار میں نشست دی جاتی ہے۔
حکومت اوراپوزیشن کے درمیان بڑھتی کشیدگی
حکومت اوراپوزیشن کے درمیان تعلقات میں بڑھتی کشیدگی کا ایک اورمظاہرہ حال ہی میں ختم ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران بھی دیکھنے کوملا۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 13 اگست کو ختم ہوا۔ اس دوران حکومت اوراپوزیشن کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہونے کے آثارنظرآئے اورایوان کی کارروائی متاثرہوئی۔ حکومت اوراپوزیشن دونوں نے کم کام ہونے کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دارٹھہرایا۔
مانسون اجلاس کا آغاز 20 جولائی کو طلبہ کے پارلیمنٹ تک مارچ سے ہوا تھا۔ اجلاس کے دوران 12 بل منظور کیے گئے، تاہم ان میں سے صرف پیپرلیک روکنے سے متعلق قانون پرتفصیلی بحث ہوئی۔ ایوان کی کارروائی غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد لوک سبھا اسپیکراوم برلا کی جانب سے منعقد کی جانے والی روایتی چائے پارٹی (ٹی پارٹی) کا بھی کانگریس، ترنمول کانگریس اورسماج وادی پارٹی نے بائیکاٹ کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
