Bharat Express DD Free Dish

Independence Day 2026

مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے معروف شعرائے کرام نے شرکت کی اور اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس موقع پر مہمانانِ خصوصی کے علاوہ شعروادب سے وابستہ شخصیات اور ادب نواز سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کے آغازمیں اردواکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے مہمانِ خصوصی عاطف رشید، سابق وائس چیئرمین، قومی اقلیتی کمیشن، حکومتِ ہند کو پودا پیش کرکے ان کا استقبال کیا۔

صدارتی خطاب میں راجہ بھائی نے کہا کہ جس آزاد فضا میں ہم سانس لے رہے ہیں، وہ ہمارے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کا عطیہ ہے۔ اب مادرِ وطن کی ترقی اور حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارے خون کی ایک ایک بوند وطن کے لیے وقف ہے۔ ملک کی ترقی ہی ہماری ترقی ہے۔

جنگ آزادی 1857 کے کچھ ناموں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، جیسے رانی لکشمی بائی، نانا پیشوا راؤ، تاتیا ٹوپے، منگل پانڈے وغیرہ۔ لیکن یہ سبھی لوگ جن کی قیادت میں لڑے اس بہادر شاہ ظفر اور جنرل بخت خان کا نام کہیں سننے ملتا ہے؟ مولانا کفایت علی کافی کا نام کبھی لال قلعے سے سنائی دیا؟ مولانا وہاج الدین کا نام کبھی مرادآباد میں بھی لیا جاتا ہے؟ بریلی میں کون خان بہادر خان اور مولانا رضا علی کا چرچا کرتا ہے؟ آخر یہ کیسا نظام ہے کہ ایک ہی جنگ کے مجاہدین کا نام لیا جاتا ہے اوراسی جنگ کے دوسرے مجاہدین کا نام چھوڑ دیا جاتا ہے!

وزیراعظم مودی کا یہ بیان اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے بھارت کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ ہرزوگ نے بھارت کی آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی کو سراہا۔

دنیا بھر سے موصول ہونے والے یہ مبارکبادی پیغامات ایسے وقت میں آئے ہیں جب بھارت اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور حکومتوں نے بھارت کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان پیغامات سے بھارت کے وسیع سفارتی روابط اور دوستی، تعاون، امن اور خوشحالی پر مبنی خطے کے قیام کے لیے اس کی شراکت داری کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔

آزادی کے بعد مہاتما گاندھی نے اقتدار میں آنے والے لیڈروں کو بھی خبردار کیا کہ حکومت کو عیش و عشرت یا ذاتی مفاد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے نئے وزرا کو یاد دلایا کہ آزاد بھارت میں عہدے اور اختیارات کے ساتھ بڑی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔گاندھی نے اقتدار کو ’کانٹوں کا تاج‘ قرار دیتے ہوئے غریبوں، دیہات اور عام لوگوں کی خدمت کو اولین ترجیح دینے کا پیغام دیا۔

اپیندر رائے نے کہا کہ یہ واقعہ انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی کی حقیقی خوشی غیر ضروری خواہشات اور ظاہری آسائشوں میں نہیں بلکہ سادگی اور ضرورت کے مطابق زندگی گزارنے میں ہے۔

لال قلعے کی فصیل پر قومی پرچم لہرانا ایک انتہائی منظم اور باقاعدہ فوجی پروٹوکول کے تحت ہونے والی کارروائی ہے۔ یہ محض پرچم لہرانے کی عام تقریب نہیں ہوتی، بلکہ اس دوران قومی ترانے، 21 توپوں کی سلامی اور دیگر رسمی مراحل کے درمیان انتہائی درست تال میل برقرار رکھا جاتا ہے۔اس پورے عمل میں ہر مرحلے کے وقت کا پہلے سے تعین کیا جاتا ہے اور معمولی غلطی کی بھی گنجائش نہیں رکھی جاتی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کے فصیل سے 80ویں یوم آزادی تقریب میں ملک کو خطاب کیا۔ وہیں اس بار بھی کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے، سابق صدر اور ایم پی راہل گاندھی نے شرکت نہیں کی۔

اپیندر رائے نے کہا کہ انسانیت کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب انسان صرف اپنے درد تک محدود نہ رہے بلکہ دوسروں کی تکلیف کو بھی اپنے برابر محسوس کرے۔ ان کے مطابق حقیقی مددگار وہ نہیں جو لاکھوں روپے خرچ کردے، بلکہ وہ ہے جو اپنی محدود استطاعت کے باوجود کسی ضرورت مند کی 10 روپے کی مدد کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔