Bharat Express DD Free Dish

یوم آزادی اور مجاہدین آزادی کی تاریخ کے ساتھ سوتیلا سلوک کیوں؟ اشتیاق ایوبی نے اٹھایا بڑا سوال

جنگ آزادی 1857 کے کچھ ناموں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، جیسے رانی لکشمی بائی، نانا پیشوا راؤ، تاتیا ٹوپے، منگل پانڈے وغیرہ۔ لیکن یہ سبھی لوگ جن کی قیادت میں لڑے اس بہادر شاہ ظفر اور جنرل بخت خان کا نام کہیں سننے ملتا ہے؟ مولانا کفایت علی کافی کا نام کبھی لال قلعے سے سنائی دیا؟ مولانا وہاج الدین کا نام کبھی مرادآباد میں بھی لیا جاتا ہے؟ بریلی میں کون خان بہادر خان اور مولانا رضا علی کا چرچا کرتا ہے؟ آخر یہ کیسا نظام ہے کہ ایک ہی جنگ کے مجاہدین کا نام لیا جاتا ہے اوراسی جنگ کے دوسرے مجاہدین کا نام چھوڑ دیا جاتا ہے!

قومی وملکی آزادی اورخود مختاری کسی بھی قوم کی بقاء وسلامتی اورترقی کی بنیادی شرط ہے۔ آزادی کا اصل مفہوم بیرونی تسلط اورغیرملکی غاصب حکمرانوں سے نجات اوراپنے فیصلے آپ کرنے کی صلاحیت ہے تاکہ آزاد ملک اپنے جغرافیائی سیاسی، معاشی اورمعاشرتی امورات میں مکمل طورپرآزادانہ عمل کرسکے۔ یوم آزادی ہمیں اپنی تاریخ سے وابسطگی، قومی وملکی ذمہ داریوں کا احساس اورمستقبل کے لئے اجتماعی عزم تجدید، سماجی ہم آہنگی اورمشترکہ اتحاد ویگانگت کا درس دیتا ہے۔
15/اگست ہماری قومی اورملکی تاریخ کا ایک تابناک دن ہے۔ یہ دن ہمیں فرنگی استعماریت اورغاصبانہ فرنگی حکمرانی سے نجات کے علاوہ آزادی کی عظیم نعمت اوروطن عزیزکی آزادی و خود مختاری کے حصول کے لئے جنگ آزادی کے قائدین و مجاہدین نیز ہمارے اجداد واسلاف کی دی جانے والی لازوال قربانیوں کوخراج عقیدت پیش کرنے اوروطن عزیزکومزید مضبوط و مستحکم، خوشحال اورترقی یافتہ بنانے کے عزم کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ آزادی مشترکہ اورمتحدہ قومیت پرمشتمل جنگ آزادی کے ہم آہنگ مجاہدین وقائدین آزادی کی مثالی شہادت اورقربانیوں کا ثمرہونے کے علاوہ ہندومسلم سکھ ودیگرہم وطن قبائل کی متحدہ جد وجہد پرمبنی آہنی اتحاد اورایک آزاد وطن کے قیام کے لیے ہندو مسلم سکھ مجاہدین اورقائدین آزادی کے غیر فراموش عزم وحوصلے، استقامت اورتاریخ سازقربانیوں کی زندہ علامت ہے۔
ہرسال یوم آزادی کے یادگارموقع پرہمیں یہ عزم کرنا چاہئے کہ ذاتی، سیاسی، لسانی، قبائلی، علاقائی، مذہبی اورفرقہ وارانہ اختلاف وتعصب سے بالاترہوکرقومی اورملکی مفاد کومقدم رکھنے کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی، باہنی اتحاد، جمہوری تسلسل، آئین کی بالا دستی، یکساں انصاف پرمبنی قانون کی حکمرانی ہے ملک کوپائیداری اوراستحکام کی دیرپا راہ پرگامزن کرسکتے ہے۔انگریزوں کے خلاف مغل حکمران شاہ عالم ثانی کے ذریعہ لڑی جانے والی جنگ پلاسی، سراج الدولہ کے ذریعہ لڑی جانے والی جنگ بنگال، شیرمیسورسلطان ٹیپوکے ذریعہ لڑی جانے والی جنگ میسورمیں سلطان ٹیپوکی شہادت کے بعد ہندوستان کی جنگِ آزادی میں مسلم رہنماؤں، علماء اورمجاہدین نے برطانوی استعمارکے خلاف اول روزسے تاریخی اوربے مثال قربانیاں دیں۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کی فکری تحریک سے لے کر 1857 کی پہلی جنگِ آزادی، ریشمی رومال تحریک، اورعدم تعاون کی تحریک تک، مسلم اکابرین نے جان ومال کے نذرانے پیش کئے۔
آزادی کے حصول کے لئے درج بالا گزشتہ معرکۂ آرائیوں کے بعد دوبارہ جنگ آزادی کی ابتدائی اورفکری تحریک کا آغازحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی فکر تحریک نے برطانوی تسلط کے خلاف سیاسی اور فکری فضاء ہموار کیا۔ 1831 میں سید احمد شہید، اسماعیل شہید نے بالاکوٹ کے میدان میں انگریزاورانگریزوں کے حامی و حواری غداران وطن کے خلاف جد و جہد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا
ملک وقوم کی آزادی کے لیے باضابطہ جنگ 1857 میں لڑی گئی، جس کی قیادت مغل شہنشاہ بہادرشاہ ظفر، جنرل بخت خان اورعلامہ فضل حق خیرآبادی، مفتی صدرالدین آزردہ، علامہ فیض بدایونی، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی کے علاوہ سینکڑوں جہاد آزادی سے سرشارمجاہدین علماء وعمائدین نے کی۔ دہلی کے علاوہ ملک کے مختلف مقامات پربھی مقامی مسلمانوں نے انگریزی استعمار کے خلاف آمنے سامنے کی لڑائی لڑی۔بریلی میں خان بہادرخان اورمولانا رضا علی خان، مرادآباد میں مولانا کفایت علی کافی اورمولانا وہاج الدین مرادآبادی، خطہ اودھ میں مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی، مفتی مظہرکریم دریا آبادی، جیسے جیالوں نے انگریزوں کے خلاف مقابلہ کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ پھانسی کے پھندوں پرجھولے، گولیاں کھائیں، خون کا آخری قطرہ تک وطن پرنثارکیا، لیکن برطانوی راج کوقبول نہیں کیا۔
1857 کی تاریخی معرکہ آرائی کے بعد بصورت چنگاری یہی لڑائی “تحریک آزادی” میں تبدیل ہوئی، جسے موہن داس کرم چند گاندھی، جواہرلعل نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، حکیم اجمل خان، خان عبدالغفارخان، مولانا محمودالحسن، مولانا حسرت موہانی، رفیع احمد قدوائی، ڈاکٹرذاکرحسین، لوک مانیہ تلک، راجہ رام موہن رائے، شہید بھگت سنگھ، شہید اشفاق اللہ خان، سبھاش چندر بوس ، چندر شیکھر آزاد جیسے آزادی کے متوالے مجاہدین وشہداء آزادی نے آگے بڑھایا۔ جہد مسلسل اورہارنہ ماننے کا جذبہ رنگ لایا اور چار ناچار انگریزوں کو یہاں سے جانا ہی پڑا۔
مگرآزادی کے بعد “تحریک آزادی” کے قائدین کا تذکرہ توخوب ہوا، لیکن “جنگ آزادی” کے ہیروکوبھلا دیا گیا۔
جنگ آزادی 1857 کے کچھ ناموں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، جیسے رانی لکشمی بائی، نانا پیشوا راؤ، تاتیا ٹوپے، منگل پانڈے وغیرہ۔ لیکن یہ سبھی لوگ جن کی قیادت میں لڑے اس بہادرشاہ ظفر اورجنرل بخت خان کا نام کہیں سننے ملتا ہے؟ مولانا کفایت علی کافی کا نام کبھی لال قلعے سے سنائی دیا؟ مولانا وہاج الدین کا نام کبھی مرادآباد میں بھی لیا جاتا ہے؟ بریلی میں کون خان بہادر خان اور مولانا رضا علی کا چرچا کرتا ہے؟ آخر یہ کیسا نظام ہے کہ ایک ہی جنگ کے مجاہدین کا نام لیا جاتا ہے اوراسی جنگ کے دوسرے مجاہدین کا نام چھوڑ دیا جاتا ہے !! شاید کچھ لوگوں کو ان کے نام اور ان کے حلیے پسند نہیں، اس لیے نہ ان کے نام نصابی کتابوں میں درج کیے گیے اورنہ ان کا نام ہی زبانوں پرلایا جاتا ہے۔ آئیے ہم خود اپنے حصے کا کام کریں۔ مسلم ملکیت والے اسکولوں کے نصاب میں انہیں شامل کریں۔ خطابات و بیانات میں ان کا چرچا کریں۔ جنہیں ووٹ دیتے ہیں ان سے مسلم مجاہدین آزادی کا نام لینے کا مطالبہ کریں۔ ان کے ناموں پرتعارفی دروازے بنائے جائیں۔ راستوں اورمیدانوں کوان کے نام سے موسوم کیا جائے۔ مدارس/اسکول میں ان پرسیمینار، سمپوزیم اورانعامی مقابلوں کا انعقاد کیا جائے۔ اپنی نسلوں کواحساس کمتری سے بچانا ہے توہمیں خود ہی یہ کام انجام دینا ہوگا۔ ورنہ آنے والے وقت میں ہماری نسلیں احساس کمتری میں کسی سے آنکھیں نہیں ملا پائیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read