Bharat Express DD Free Dish

Independence Day

مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے معروف شعرائے کرام نے شرکت کی اور اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس موقع پر مہمانانِ خصوصی کے علاوہ شعروادب سے وابستہ شخصیات اور ادب نواز سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کے آغازمیں اردواکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے مہمانِ خصوصی عاطف رشید، سابق وائس چیئرمین، قومی اقلیتی کمیشن، حکومتِ ہند کو پودا پیش کرکے ان کا استقبال کیا۔

کھڑگے نے بی جے پی پر مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے ہلدوانی میں اپنی سیاسی ریلی کے بعد مبینہ طور پر مقام کی ’شدھی کرن‘ کرائے جانے کے معاملے پر سخت اعتراض کیا۔الزام ہے کہ 8 اگست کو کھڑگے کی ریلی کے دو دن بعد 10 اگست کو شری رام سینا نے اسی مقام پر گنگاجل کا چھڑکاؤ کیا اور ہون کیا۔ اس واقعے کے بعد سیاسی تنازع پیدا ہوگیا۔ کانگریس لیڈروں  نے الزام لگایا کہ یہ دلتوں کے خلاف امتیازی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے 14 ریاستوں میں بیک وقت آپریشن چلا کر اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی۔ انہوں نے اسے دہشت گردی کے خلاف بھارت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کی واضح مثال قرار دیا۔

جنگ آزادی 1857 کے کچھ ناموں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، جیسے رانی لکشمی بائی، نانا پیشوا راؤ، تاتیا ٹوپے، منگل پانڈے وغیرہ۔ لیکن یہ سبھی لوگ جن کی قیادت میں لڑے اس بہادر شاہ ظفر اور جنرل بخت خان کا نام کہیں سننے ملتا ہے؟ مولانا کفایت علی کافی کا نام کبھی لال قلعے سے سنائی دیا؟ مولانا وہاج الدین کا نام کبھی مرادآباد میں بھی لیا جاتا ہے؟ بریلی میں کون خان بہادر خان اور مولانا رضا علی کا چرچا کرتا ہے؟ آخر یہ کیسا نظام ہے کہ ایک ہی جنگ کے مجاہدین کا نام لیا جاتا ہے اوراسی جنگ کے دوسرے مجاہدین کا نام چھوڑ دیا جاتا ہے!

وزیر اعظم نریندر مودی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں وہ اپنی سرکاری رہائش گاہ پر گایوں کو چارہ اور موروں کو دانہ کھلاتے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اسے کافی پسند کیا جا رہا ہے اور لوگ وزیر اعظم کی اس روزمرہ کی سرگرمی پر گفتگو کر رہے ہیں۔

وزیراعظم مودی کا یہ بیان اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے بھارت کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ ہرزوگ نے بھارت کی آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی کو سراہا۔

بلیا کے بہادرپور میں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب سے غیر حاضر رہنے پر گرام پنچایت کے سکریٹری آشیش کمار سے گاؤں کے پردھان نے تین دن کے اندر وضاحت طلب کی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس موقع کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’وندے ماترم‘ آزادی کی تحریک کا ایک پرجوش نعرہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے 80 سال بعد لال قلعہ کی فصیل سے اس کا مکمل ورژن سننا انتہائی جذباتی لمحہ ہے۔

رسمی پروگرام ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم نے قافلہ رکوا کر نوجوان شرکا کے درمیان جانے کا فیصلہ کیا اور پیدل ان کی جانب بڑھے۔ وزیر اعظم کو اپنے درمیان دیکھ کر بچوں میں خاصا جوش و خروش دیکھا گیا۔ کئی بچوں نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کر ان کا استقبال کیا۔

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ آج کا نوجوان تقریباً 30 سال بعد عمر رسیدہ ہو جائے گا، اس لیے اسے صرف اپنے مستقبل کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان صرف ذاتی مفادات تک محدود ہو گئے اور معاشرے سے دور ہو گئے تو ملک کی نوجوان آبادی کی طاقت ہی مستقبل میں ایک چیلنج بن سکتی ہے۔