Bharat Express DD Free Dish

ہندی بھون میں اردوکا مشاعرہ، یہ امتزاج ہی اپنے آپ میں گنگا جمنی تہذیب کی خوبصورت مثال ہے، اردواکادمی، دہلی کے زیراہتمام مشاعرہ جشنِ آزادی میں مہمان خصوصی انعقاد

مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے معروف شعرائے کرام نے شرکت کی اور اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس موقع پر مہمانانِ خصوصی کے علاوہ شعروادب سے وابستہ شخصیات اور ادب نواز سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کے آغازمیں اردواکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے مہمانِ خصوصی عاطف رشید، سابق وائس چیئرمین، قومی اقلیتی کمیشن، حکومتِ ہند کو پودا پیش کرکے ان کا استقبال کیا۔

نئی دہلی: اردواکادمی، دہلی کے زیرِاہتمام جشنِ آزادی کے موقع پرہندی بھون، آئی ٹی او، نئی دہلی میں ایک پروقار’’مشاعرہ جشنِ آزادی‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے معروف شعرائے کرام نے شرکت کی اوراپنے منتخب کلام سے سامعین کومحظوظ کیا۔ اس موقع پرمہمانانِ خصوصی کے علاوہ شعروادب سے وابستہ شخصیات اورادب نوازسامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کے آغازمیں اردواکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے مہمانِ خصوصی عاطف رشید، سابق وائس چیئرمین، قومی اقلیتی کمیشن، حکومتِ ہند کوپودا پیش کرکے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد اکادمی کے سینئرکارکنان محمد ہارون اورعزیرحسن قدوسی نے مہمانِ مکرم فیروزبخت، سابق چانسلر، مولانا آزاد اردویونیورسٹی اورمہمانِ اعزازی عبدالماجد نظامی، ایڈمنسٹریٹیوہیڈ وگروپ ایڈیٹر، سہارا انڈیا میڈیا کوپودے پیش کرکے خیرمقدم کیا اورسکریٹری لیکھ راج نے مشاعرے میں شرکت کرنے والے تمام شعرائے کرام کو پھول پیش کرکے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
مشاعرے کی صدارت کی ذمہ داری ہندی اوراردوکے معروف شاعردکشت دنکوری کوسونپی گئی، جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعراعجازانصاری نے انجام دیئے۔ بعد ازاں سکریٹری اردواکادمی، مہمانانِ خصوصی اورشعرائے کرام نے مشترکہ طورپرشمع روشن کرکے مشاعرے کا باضابطہ افتتاح کیا۔ سکریٹری اکادمی لیکھ راج نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ اردواکادمی ہرسال جشنِ آزادی کے موقع پرمشاعرے کا انعقاد اس جذبے کے ساتھ کرتی ہے کہ ملک کی آزادی کی قدرومنزلت کواجاگرکیا جائے اوران عظیم شہداء، مجاہدینِ آزادی اورجانبازسپوتوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے، جن کی قربانیوں اورجدوجہد کے نتیجے میں ہمیں آزادی کی نعمت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی حفاظت کرنا اوراس کی اقدارکوآئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دہلی حکومت کی جانب سے اردواکادمی کی ادبی وثقافتی سرگرمیوں اورپروگراموں کی حوصلہ افزائی کوسراہتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعلیٰ دہلی ریکھا گپتا اوروزیرِفن، ثقافت والسنہ، حکومتِ دہلی کپل مشرا کی مثبت اورحوصلہ افزا کوششوں کے نتیجے میں اردواکادمی اپنے ادبی وثقافتی پروگراموں کومزید وسعت اورخوبصورتی کے ساتھ پیش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جشنِ آزادی کے موقع پرمنعقد ہونے والا یہ مشاعرہ ’’ہرگھرترنگا‘‘ مہم کے تحت منعقد کئے جانے والے اہم پروگراموں میں سے ایک ہے، جس کے ذریعہ قومی یکجہتی اوروطن سے محبت کے جذبے کوفروغ دیا جا رہا ہے۔
فیروزبخت نے اردوزبان کی ہمہ گیرحیثیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردوکمپوزٹ کلچر، محبت، رواداری اورباہمی میل جول کی زبان ہے۔ یہ کسی ایک مذہب یا طبقے کی زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی نمائندہ زبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردونے ہمیشہ مختلف تہذیبوں اورمعاشروں کے درمیان قربت پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے جشنِ آزادی کے موقع پراس مشاعرے کے انعقاد کو سراہتے ہوئے دہلی حکومت اورخصوصاً وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کی کوششوں کی تعریف کی۔ عبدالماجد نظامی نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ مشاعرہ کئی اعتبارسے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک تویہ کہ ہم آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پراس کا انعقاد کررہے ہیں، دوسرے یہ کہ جشنِ آزادی کواردوزبان وادب کے ذریعہ منایا جا رہا ہے اورتیسرے یہ کہ یہ تقریب ہندی بھون جیسے اہم ثقافتی مرکزمیں منعقد کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے بڑی خوش بختی کی بات ہے کہ ہمارے بزرگوں نے دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا جامع دستورمرتب کیا، جس کی بدولت آج ہم آزادی کی 8 دہائیاں مکمل ہونے کے بعد بھی اپنی زبان اوراپنی تہذیبی روایت کے ساتھ اس طرح کے پروگرام منعقد کررہے ہیں۔ انہوں نے اس مشاعرے کی تاریخی اورتہذیبی روایت پرگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ جشنِ آزادی کا یہ مشاعرہ کبھی ہندوستان کے سب سے معروف اوربڑے مشاعروں میں شمارہوتا تھا، لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی وہ شہرت اورمقبولیت بتدریج کم ہوتی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پرزوردیا کہ اس تاریخی مشاعرے کی عظمت، روایت اورکھوئی ہوئی شہرت کودوبارہ بحال کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے دہلی حکومت کی توجہ دہلی اکادمی کی گورننگ کونسل کی تشکیلِ نوکی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ اردوزبان وادب سے متعلق سرگرمیوں، مشاعروں اوردیگرادبی وثقافتی امورکومزید مؤثربنانے کے لئے اکادمی کومضبوط اورفعال بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے اردواکادمی میں طویل عرصے سے خالی پڑی اسامیوں کوپُرکرنے کی ضرورت پربھی زوردیا۔
مہمانِ خصوصی عاطف رشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ہندی بھون میں اردوکا مشاعرہ، یہ امتزاج ہی اپنے آپ میں گنگا جمنی تہذیب کی خوبصورت مثال ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ منظر ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، لسانی ہم آہنگی اورگنگا جمنی روایت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ انھوں نے اردوکے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات اردوکے ساتھ ناانصافی خود محبانِ اردوکی جانب سے بھی ہوجاتی ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ محبانِ اردوحکومت کے ساتھ مثبت اندازمیں قدم سے قدم ملا کرچلیں، حکومت کے اچھے اقدامات کا خیرمقدم کریں اوراردوسے متعلق مسائل کے حل کے لیے تعمیری اندازاختیارکریں۔ انہوں نے کہا کہ اردواکادمی کواس کے شایانِ شان وقارکے ساتھ زندہ رکھنا کسی ایک فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اردوکسی ایک مذہب یا طبقے کی زبان نہیں بلکہ ہرہندوستانی کی زبان ہے اوراگرہم سب مل کرکوشش کریں تواردوکواس کا کھویا ہوا وقاردوبارہ دلایا جا سکتا ہے۔ مشاعرے کے اختتام پراکادمی کی جانب سے پروگرام کے ناظم اطہرسعید نے نہایت شائستگی، خوش اسلوبی اورعمدگی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مہمانان، شعرائے کرام، سامعین، منتظمین اورشرکائے پروگرام کا صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا۔ ان کے کلماتِ تشکرکے ساتھ مشاعرۂ جشنِ آزادی قومی یکجہتی وباہمی محبت کے پیغام کے ساتھ اختتام پذیرہوا۔

مشاعرہ میں پیش کئے گئے منتخب اشعار قارئین کے لیے پیش ہیں:

اے غزل پاس آ گنگنالوں تجھے
تو سنوارے مجھے میں سنواروں تجھے
(دکشت دنکوری)
کسی کاغذ، کسی تحریر سے پہلے والا
گمشدہ شعر ہوں میں میرؔ سے پہلے والا
(شکیل اعظمی)
نہیں ہے تیری چمک میں کوئی کمی سورج
میں خود وہاں ہوں جہاں روشنی نہیں آتی
(اقبال اشہر)
نہ جانے کون سے لہجے میں سمجھایا گیا ہوگا
وہ خود آیا نہیں ہوگا اسے لایا گیا ہوگا
(خورشید حیدر)
خزاں سے دور رکھنا ہے محبت کے چمن کوبھی
ہواؤں سے بچانا ہے چراغِ انجمن کوبھی
(اعجازانصاری)
اپنی آنکھوں کوگنہگارنہیں کرسکتا
میں کسی اورکا دیدارنہیں کرسکتا
(جاوید مشیری)
سفر کی ابتدا ہے اورمیں ہوں
مخالف راستہ ہے اورمیں ہوں
(الطاف ضیاء)
ادھوری پیاس کا چرچہ نہیں کیا جاتا
خود اپنی ذات کورسوا نہیں کیا جاتا
(علینا عطرت)
ہم ایسے لوگوں کو دل سے سلام کرتے ہیں
سنہری یادوں کا جو اہتمام کرتے ہی
(وارث وارثی)
یہ میرا دیش ہے اس دیش کے ہرآنگن میں
بیج نفرت کے کسی کو نہیں بونے دوں گی
(نکہت امروہی)
یقین کر کہ تیرے غم شناس ہم بھی ہیں
اداس دیکھ کے تجھ کو اداس ہم بھی ہیں
(شاکردہلوی)
وفا کا درد بنا ہے سوال آنکھوں میں
اتر گیا ہے کسی کا ملال آنکھوں میں
(ریشماں زیدی)
ترنگا ہے وطن کی شان یا رب
اسے کچھ اور بھی ذیشان کردے
(راہی نظامی)
ابھی سے خوش نہیں ہونا ابھی زنجیر کھولی ہے
فقط زنجیر کھلنے سے کوئی آزاد ہوتا ہے
(ہمانشی بابرا)
گھر سے چلتا ہوں تو گھر کاٹتا ہے
گھر سے نکلوں تو سفر کاٹتا ہے۔
(شکیل بریلوی)

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read