Bharat Express DD Free Dish

Urdu Academy Delhi

یومِ اساتذہ کی مناسبت سے اظہارِخیال کرتے ہوئے پروفیسرخالد محمود نے کہا کہ یہ دن اساتذہ کی علمی و تعلیمی خدمات کے اعتراف اور ان کے احترام کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چونکہ 5 ستمبر سابق صدرِجمہوریہ اور ممتاز ماہرِتعلیم ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کا یومِ پیدائش ہے، اسی مناسبت سے یہ دن یومِ اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اپنے اساتذہ کی قدرکریں، ان کی دی ہوئی رہنمائی اور راستے پر چلیں اور اپنی زندگی کی ہرکامیابی میں اپنے اساتذہ کو یاد رکھیں۔

’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا بنیادی مقصد اردو زبان وادب کی مختلف اصناف سے وابستہ اہلِ قلم کو ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں نئی نسل کے تخلیق کاروں کو سینئر شعرا وادبا کے تجربات سے استفادہ کا موقع مل سکے اور دہلی کی دیرینہ ادبی روایت کو نئی فکر، تازہ امکانات اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ پانچ روزہ اس اجتماع کے دوران مختلف ادبی نشستیں، سمینار اور مشاعرے منعقد ہوں گے، جن میں بڑی تعداد میں شعرا، ادبا اور ریسرچ اسکالرزاپنی تخلیقات اور تحقیقی کاوشیں پیش کریں گے۔

مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے معروف شعرائے کرام نے شرکت کی اور اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس موقع پر مہمانانِ خصوصی کے علاوہ شعروادب سے وابستہ شخصیات اور ادب نواز سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کے آغازمیں اردواکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے مہمانِ خصوصی عاطف رشید، سابق وائس چیئرمین، قومی اقلیتی کمیشن، حکومتِ ہند کو پودا پیش کرکے ان کا استقبال کیا۔

ثقافتی تقریب کے اختتام پر دہلی گھرانے کے معروف قوال ارشد عدنان قطبی اوران کے گروپ نے صوفیانہ قوالیوں کی محفل سجائی۔ انھوں نے اپنی پیشکش کا آغاز’’دل دیا ہے جاں بھی دیں گے، اے وطن تیرے لیے‘‘ سے کیا بعد ازاں حب الوطنی کے موضوع پرمختلف کلام اپنے منفرد اورپُرسوزاندازمیں پیش کیے۔ قوالوں کی دل سوزآوازاورصوفیانہ رنگ نے محفل کو یادگاربنا دیا۔

اس مشاعرے کی صدارت روزنامہ انقلاب کے سابق مدیر اور ممتاز صحافی شکیل حسن شمسی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر معین شاداب نے اپنے منفرد اور دلنشیں انداز میں انجام دیئے۔ انھوں نے پوری نشست کوابتدا سے انتہا تک نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ مربوط اور پُراثر بنائے رکھا۔ پروگرام کا آغاز نہایت پُروقار انداز میں ہوا۔ صدرِ مشاعرہ، ناظمِ مشاعرہ اور تمام شعرائے کرام نے مشترکہ طورپر شمع روشن کرکے محفل کا باضابطہ افتتاح کیا۔

تقریب کے اختتام پرسکریٹری اردواکادمی، دہلی لیکھ راج اوراکاؤنٹ آفیسرانل کمار کامرہ نے سمرکیمپ میں شرکت کرنے والے طلبا میں اسناد (سرٹیفکیٹس) تقسیم کیے۔ اس موقع پر اظہارِخیال کرتے ہوئے سکریٹری اکادمی نے سمرکیمپ کے کامیاب انعقاد پر حکومتِ دہلی، محکمۂ فن، ثقافت والسنہ اور وزیر برائے فن، ثقافت والسنہ کپل مشرا کے تعاون اور سرپرستی کا شکریہ ادا کیا۔

سمر کیمپ 2026 میں تقریباً 230 طلبا روزانہ بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کررہے ہیں۔ طلبا کی تعلیمی، ذہنی اورتخلیقی صلاحیتوں کوبہتراندازمیں پروان چڑھانے کے لیے انھیں دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: سینئر زمرہ (نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک) اورجونیئر زمرہ (چوتھی جماعت سے آٹھویں جماعت تک)۔ سمرکیمپ میں طلبا کے لئے تعلیمی، تربیتی، اخلاقی اور تخلیقی سرگرمیوں کا خصوصی اہتمام کیا جا رہا ہے، جن کے ذریعہ بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان میں اعتماد، نظم وضبط اور عملی مہارت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بارہویں پاس افراد کے لیے سنہری موقع، آن لائن درخواستیں جاری، کورس کی کلاسز آف لائن موڈ میں کرائے جایئنگے۔ کلاسز شام چھ سے سات بجے تک، پیر سے جمعرات منعقد ہوں گی

پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین نے اپنے خطاب میں اس بات کو خوش آئند قراردیا کہ سمینارمیں نئی نسل کی بڑی تعداد میں شرکت دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے اس کامیاب شمولیت پراردو اکادمی کومبارکباد دی اورکہا کہ اکیسویں صدی مصنوعی ذہانت کا عہد ہے، جس کی برق رفتاری نے ہماری فکری ساخت اور طرزِ فکر کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ ایسے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ادب کے رجحانات اور رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے، جس کے اثرات تخلیقی ادب میں بھی نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت نامور محقق ونقاد پروفیسر عبدالحق نے کی، جبکہ کلیدی خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ریٹائرڈ پروفیسر قاضی جمال حسین نے پیش کیا۔ فیکلٹی آف آرٹس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق ڈین اور معروف ادیب و دانشور پروفیسر قاضی افضال حسین مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شفیع ایوب نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔