ڈیجیٹل عہد میں سوشل میڈیا کا استعمال بقدر ضرورت ہی کرنا چاہئے، اردواکادمی، دہلی کے زیراہتمام منعقدہ سیمینارمیں دوسرے دن سینئرصحافی شاہد لطیف کا بڑا مشورہ
پروفیسرخالد اشرف نے صدارتی خطاب میں کہا کہ یہ درست ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا آج کے وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، مگر اسے اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا چاہئے۔ مشینیں انسان ایجاد کرتا ہے نہ کہ مشینوں نے انسان ایجاد کیے ہیں، یہ معاملہ واقعی تشویش ناک اور قابل تاسف ہے کہ انسان اس کے چنگل میں پھنس جائے۔
دہلی اردو اکادمی کا تاریخی قدم، ’ڈیجیٹل میڈیا اوراردو زبان وادب: عصری تناظرات اور امکانات‘ پر سہ روزہ قومی سمینارکا آغاز
ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان وادب: عصری تناظرات اورامکانات‘ کے افتتاحی اجلاس کی صدارت شکیل حسن شمسی نے کی جبکہ بطور مہمان خصوصی جاوید دانش (کناڈا) اور بطور مہمان اعزازی قربان علی نے شرکت کی۔ کلیدی خطبہ پروفیسر شافع قدوائی نے پیش کیا۔ استقبالیہ کلمات دہلی اردو اکادمی کے سکریٹری محمد احسن عابد اور تعارفی کلمات پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے پیش کئے۔ نظامت کی ذمہ داری ڈاکٹر شفیع ایوب نے نبھائی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فیکلٹی اراکین، اردواکادمی انعامات کے لئےمنتخب، پروفیسراحمد محفوظ، پروفیسرخالد محمود اور رخشندہ روحی کو ملا بڑا ایوارڈ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدرشعبہ اردو اورعہد حاضرکے ممتازشاعرپروفیسراحمد محفوظ کواردواکادمی دہلی نے’ایوارڈ برائے تحقیق وتنقید‘، سید عابد حسین سینئرسیکنڈری اسکول کی استاد رخشندہ روحی کو’ایوارڈ برائے تخلیقی نثر‘ اورسابق صدر شعبہ اردوپروفیسرخالد محمود کو’پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی‘ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔





