Bharat Express DD Free Dish

Urdu Academy Delhi

افتتاحی اجلاس کی صدارت نامور محقق ونقاد پروفیسر عبدالحق نے کی، جبکہ کلیدی خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ریٹائرڈ پروفیسر قاضی جمال حسین نے پیش کیا۔ فیکلٹی آف آرٹس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق ڈین اور معروف ادیب و دانشور پروفیسر قاضی افضال حسین مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شفیع ایوب نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔

بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو میں معروف صحافی اور آل انڈیا ریڈیوکی نیوز ریڈر نیتیکا تیاگی نے ’ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو صحافت کا کردار‘ کے موضوع پر گفتگو کی ۔ نتیکا نے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔

بھارت ایکسپریس اردو  کی جانب سے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ  بھارت ایکسپریس اُردو کانکلیو میں پدم شری اخترالواسع  نے اپنے خطاب میں ’نئے بھارت میں اردو کا رول‘ پرکافی مثبت اور جامع گفتگو کی۔

بھارت ایکسپریس کے بینر تلے دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ ’’بزمِ صحافت‘‘ پروگرام میں اردو زبان کو عالمی شناخت دلانے پر زور دیا گیا۔ اس کانکلیو میں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپیندر رائے نے شرکت کی۔

بھارت ایکسپریس کے ذریعے اردو کانکلیو، اردو اکادمی دہلی (فن و ثقافت اور زبان، دہلی حکومت) کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور دہلی حکومت کے وزیر کپل مشرا کا مومنٹم اور شال اوڑھا کر استقبال کیا۔

کانکلیو کے چھٹے اور آخری سیشن میں ملک بھر کے ممتاز شعرا اور کوی اپنی شاعری پیش کریں گے۔ یہ سیشن شام 06:00 بجے سے 09:00  بجے تک چلے گا، جس کی صدارت شکیل اعظمی کریں، جبکہ معین شاداب نظامت کی۔

اردواکادمی، دہلی کے زیرِاہتمام جاری ’’اردوڈراما فیسٹول‘‘ کے تیسرے دن منٹوکی یہی فنی و فکری خوبیاں ناظرین کے دل ودماغ پراثراندازرہیں۔ آج شام شری رام سینٹرمیں اداکارتھیٹرسوسائٹی کے زیرِاہتمام منٹوکے معروف افسانے’’جیب کترا‘‘ کواسٹیج پر پیش کیا گیا، جس کی ہدایت کاری معروف تھیٹرفنکارہمت سنگھ نیگی نے کی۔ ڈرامے کی  پیشکش سے قبل ناظمِ محفل مالک اشتر نے منٹوکے فکروفن اورتھیٹرکے حوالے سے مختصرگفتگوکی، جس کے بعد کہانی کی پیشکش نے ناظرین کوگہرے تاثرات میں ڈبودیا۔

اردواکادمی دہلی کا یہ جشن گزشتہ 15 برسوں سے مسلسل کامیابی کے ساتھ منعقد ہورہا ہے اوراپنی نوعیت میں بے مثال ہے۔ اس میں اسکولی بچوں، کالج کے طلبہ، یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالروں کے ساتھ ساتھ اردو زبان وادب سے وابستہ فنکاراورملک کے معروف گلوکاربھی شریک ہوتے ہیں۔

اس جشن کے تحت روزانہ دوپہر بارہ بجے سے رات آٹھ بجے تک مختلف پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کو سننے اور طلبہ کے ادبی مقابلوں کو دیکھنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس وراثتی میلے میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے پروگراموں کے علاوہ کتابوں، کیلی گرافی، پینٹنگز، دستکاری اور دیگر اشیاء کے اسٹالز بھی لگائے گئے ہیں۔

تیسرے دن کا پہلا پروگرام تحقیقی و تنقیدی اجلا س سے شرو ع ہوا جس کی صدرات پروفیسر شہزاد انجم ، پروفیسر احمد محفوظ اورپروفیسر مظہر احمد نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ثاقب عمران نے انجام دئیے ۔ تخلیقی اجلاس کی صدارت پروفیسر جی ۔آر۔ سید، معصوم مرادآبادی، ڈاکٹر خالد رضا خان اور نظامت ڈاکٹر نثار احمد نے انجام دئیے اور آخر میں محفل شعرو سخن کا انعقاد ہوا جس کی صدرات متین امرہوی اور نظامت مرزا عارف نے کی۔