نئی دہلی: سعادت حسن منٹو کا شماراردوافسانے کے اُن چند نادرتخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے زندگی کی تلخ حقیقتوں اورمعاشرتی برائیوں کوبے باکی اورجرأت کے ساتھ قلم بند کیا۔ انھوں نے اپنے قلم کے زورسے سماج کے دوہرے چہروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ ان کا فن زندگی کی کڑوی حقیقتوں، انسانی کمزوریوں اورمعاشرتی تضادات کا آئینہ دار ہے۔ ان کی زبان سادہ مگرحقیقت پسندانہ ہے، جس میں طنزومزاح کے پہلو بھی نمایاں ہیں۔ منٹو کے فن کی یہی خوبیاں انھیںاردو فکشن کا ایک منفرد اورلازوال افسانہ نگار بناتی ہیں۔
اردواکادمی، دہلی کے زیرِاہتمام جاری ’’اردوڈراما فیسٹول‘‘ کے تیسرے دن منٹوکی یہی فنی وفکری خوبیاں ناظرین کے دل ودماغ پراثراندازرہیں۔ آج شام شری رام سینٹرمیں اداکارتھیٹرسوسائٹی کے زیرِاہتمام منٹوکے معروف افسانے’’جیب کترا‘‘ کواسٹیج پر پیش کیا گیا، جس کی ہدایت کاری معروف تھیٹرفنکارہمت سنگھ نیگی نے کی۔ ڈرامے کی پیشکش سے قبل ناظمِ محفل مالک اشتر نے منٹوکے فکروفن اورتھیٹرکے حوالے سے مختصرگفتگوکی، جس کے بعد کہانی کی پیشکش نے ناظرین کوگہرے تاثرات میں ڈبودیا۔
یہ کہانی ایک جیب کترے ’’کاشی‘‘ کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جوحالات کے جبرکے تحت چوری پرمجبورہے۔ ایک دن بازارمیں وہ ’’بملا‘‘ نامی عورت کا بٹوہ چرالیتا ہے، مگراس میں موجود ایک خط کی افسردہ تحریر اسے پشیمان کردیتی ہے۔ اسے بملا کی زندگی میں غم اورمایوسی کے ایسے آثارنظرآتے ہیں، جن سے ظاہرہوتا ہے کہ وہ خودکشی کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ انکشاف کاشی کے دل میں ندامت اورانسانیت دونوں کوبیدارکردیتا ہے۔ وہ بملا سے اپنے جرم کی معافی مانگتا ہے اوراس کی زندگی میں دم توڑتی امید کوپھرسے جلا بخشنے کی کوشش کرتا ہے۔ بدلے میں بملا وعدہ کرتی ہے کہ وہ کاشی کوایک بہترانسان بننے میں مدد کرے گی، مگربرسوں کی چوری نے کاشی کو’’کلیپٹو مینیا‘‘ جیسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا کردیا تھا، جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔ کہانی کا کلائمکس اس وقت آتا ہے جب بملا اپنی مجبوریوں کے باعث کاشی سے دوبارہ چوری کرنے کوکہتی ہے، لیکن اس بارکاشی انکارکردیتا ہے کیونکہ وہ ایمانداری اوردیانت داری کے ساتھ زندگی گزارنے کا پختہ عزم کرچکا ہوتا ہے۔ کہانی کا اختتام علامتی اورفکرانگیزاندازمیں ہوتا ہے، جوناظرین کے ذہنوں پریہ سوال چھوڑجاتا ہے کہ کیا کاشی اپنی نئی راہ پرقائم رہ پائے گا یا حالات اسے دوبارہ جرم کے اندھیروں میں دھکیل دیں گے۔
یہ ڈراما کل 18 کرداروں پرمشتمل تھا، جن میں دومرکزی، دومعاون اور14 ضمنی کردارشامل تھے۔ کہانی سات بنیادی اورتین ضمنی مناظرپرمشتمل تھی۔ فنکاروں نے اپنی بے مثال اداکاری اورجذباتی گہرائی کے ساتھ منٹوکی سادہ زبان کواس طرح مجسم کیا کہ ناظرین کے لیے افسانوی کرداراورتھیٹراداکارمیں فرق کرنا مشکل ہوگیا۔ معاون وضمنی فنکاروں نے بھی اپنے دلچسپ مکالموں، گہرے تاثرات اورمزاحیہ حرکات کے ذریعے کہانی کے جذباتی توازن کوآخر تک برقراررکھا۔ مختصریہ کہ یہ ڈراما نہ صرف فنِ اداکاری کے اعتبارسے کامیاب رہا بلکہ اپنے جامع ومؤثراسکرپٹ، اثرانگیزمکالموں اورفنی پیشکش کے باعث ناظرین کے دلوں پرگہرا اثر چھوڑ گیا۔ ڈرامے کے اختتام پراکادمی کے لنک آفیسرڈاکٹررمیش ایس لعل، محمد ہارون اورعزیرحسن قدوسی نے ہدایت کارہمت سنگھ نیگی کومومنٹواورگلدستہ پیش کرکے ان کی شاندارپیشکش کوسراہا۔ اس موقع پرڈراما کے شائقین کے علاوہ طلبا کی ایک کثیرتعداد بھی موجود تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
