Bharat Express DD Free Dish

Urdu Academy Delhi

سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹرسرو پلی رادھا کرشنن ایک سیاست داں ہونے کے ساتھ ایک عظیم استاد، عالم اور مشہورفلسفی بھی تھے۔ وہ 5 ستمبرکو تروتنی، تمل ناڈو میں 1888 میں پیدا ہوئے تھے۔ اس دن کو ڈاکٹر سروپلی کی یوم پیدائش کی یاد میں 5 ستمبر کو یوم اساتذہ کے طورپر منایا جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں دہلی اردو اکادمی کی طرف کوئز مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں  دہلی کے 19 اسکولوں کے طلبا وطالبات نے شرکت کی۔ اس میں جامعہ مڈل اسکول اور نیوہرائزن پبلک اسکول کے طلبا نے اول پوزیشن حاصل کی۔ جبکہ پانچ ٹیمیں دوسری پوزیشن پر رہیں اور دو ٹیمیں تیسری پوزیشن پر رہیں۔ اس طرح سے 9 ٹیمیں فاتح قرارپائیں۔

اردواکادمی، دہلی کے زیراہتمام آج اردوکوئزمقابلہ برائے سکنڈری وسینئرسکنڈری زمرہ ( نویں تابارہویںجماعت) کا انعقاد ہوا، جس میں 16 اسکولوں کے 64 طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات دیے جاتے ہیں، جبکہ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی انعامات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

ڈراموں کی پیشکش کے بعد پروفیسردانش اقبال نے بچوں اوراساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب نے عصرِحاضرسے متعلق موضوعات پربہت عمدہ ڈرامے پیش کیے۔ میں اردوڈراموں کے اس کلچرسے بہت متاثرہوا ہوں۔ اردواکادمی، دہلی اس روایت کو مستقل فروغ دیتی رہی ہے اوراسی کا نتیجہ ہے کہ آج 19 اسکولوں سے 140 طلبہ وطالبات نے اپنا ہنرپیش کیا۔

اردو اکادمی میں اسسٹنٹ ایڈیٹر، سب ایڈیٹر، ہیڈ لائبریرین، اسسٹنٹ لائبریرین، چیف اکاؤنٹنٹ، اسٹینوگرافراور جونیئر کمپیوٹر آپریٹر کی اسامیاں شامل ہیں۔ ان تمام اسامیوں کے لیے عمر کی حد بھی متعین کی گئی ہے۔

سمرکیمپ اوراردوتھیٹرورکشاپ اردواکادمی دہلی کے ذمہ داران وکارکنان کی خصوصی دلچسپی کے باعث ممکن ہوسکی، جنھوں نے اس کیمپ کی کامیابی میں نمایاں کردارادا کیا۔ اس اقدام کا مقصد بچوں میں اردوزبان، تہذیب اورفنونِ لطیفہ سے محبت اور دلچسپی پیدا کرنا تھا اور یہ ایک سنجیدہ اورمؤثرکوشش ثابت ہوئی۔

اس طرح کے سلسلے جاری رہنے چاہئیں ،ان سے ہماری قدروں اور روایتوں کی یاد دہانی ہوتی ہے: پروفیسر عبدالحق، دہلوی نثر مثالی نثر ہے جو بے نظیر بھی ہے اور لازوال بھی: پروفیسر خالد علوی، اردو اکادمی اپنا امتیاز اور اختصاص برقرار رکھنے میں کامیاب رہی: پروفیسر احمد محفوظ، دہلوی نثر ایک شان دار سرمایہ اورقیمتی اثاثہ ہے جسے یقینا اسی نیت اور ارادے سے فروغ دیا جاتارہا ہے: پروفیسر شہزاد انجم ،

دہلی اردو اکادمی کے زیر اہتمام ، بیسویں صدی میں دہلوی اردو نثر کے عنوان سے منعقدہ سہ روزہ قومی سمینار کے دوسرے دن شرکاء کا اظہار خیال

معروف صحافی لئیق رضوی نے کہا کہ آج اکثرکہا جاتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا اورپلیٹ فارمس اورسائٹس پر اردو زبان وادب اور رسم الخط واملا کے تعلق سے بے شمارغلطیاں ہوتی ہیں، مگراس کا مثبت پہلویہ ہے کہ ہم کہیں نہ کہیں ڈیجیٹل دنیا کے شانہ بشانہ تو ہیں، یہ ہمارے لیے نہایت خوش آئند بات ہے۔

پروفیسرخالد اشرف نے صدارتی خطاب میں کہا کہ یہ درست ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا آج کے وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، مگر اسے اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا چاہئے۔ مشینیں انسان ایجاد کرتا ہے نہ کہ مشینوں نے انسان ایجاد کیے ہیں، یہ معاملہ واقعی تشویش ناک اور قابل تاسف ہے کہ انسان اس کے چنگل میں پھنس جائے۔