Bharat Express DD Free Dish

Independence Day 2026: کون ہیں کیپٹن سونیا سنگھ چوہان؟ وہ فوجی افسر جنہوں نے وزیراعظم مودی کے ساتھ لال قلعے پر لہرایا ترنگا

لال قلعے کی فصیل پر قومی پرچم لہرانا ایک انتہائی منظم اور باقاعدہ فوجی پروٹوکول کے تحت ہونے والی کارروائی ہے۔ یہ محض پرچم لہرانے کی عام تقریب نہیں ہوتی، بلکہ اس دوران قومی ترانے، 21 توپوں کی سلامی اور دیگر رسمی مراحل کے درمیان انتہائی درست تال میل برقرار رکھا جاتا ہے۔اس پورے عمل میں ہر مرحلے کے وقت کا پہلے سے تعین کیا جاتا ہے اور معمولی غلطی کی بھی گنجائش نہیں رکھی جاتی۔

نئی دہلی :بھارت آج اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی جب تاریخی لال قلعے کی فصیل پر قومی پرچم ترنگا لہرانے پہنچے تو ان کے ساتھ بھارتی فوج کی ایک خاتون افسر بھی موجود تھیں، جنہوں نے تقریب کے دوران سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ ان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔یہ خاتون افسر کیپٹن سونیا سنگھ چوہان ہیں، جو پرچم کشائی کی رسمی کارروائی کے دوران وزیراعظم مودی کے ساتھ موجود تھیں اور قومی پرچم لہرانے کے عمل میں تعاون کر رہی تھیں۔ وزیراعظم مودی کے ساتھ ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔

کون ہیں کیپٹن سونیا سنگھ چوہان؟

کیپٹن سونیا سنگھ چوہان بھارتی فوج کی ایک کمیشن یافتہ افسر ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق 5 اگست 2026 کو انہیں یومِ آزادی کی تقریب میں قومی پرچم سے متعلق رسمی پروگرام کے لیے شامل کیا گیا تھا۔یوم  آزادی کی مرکزی تقریب کے دوران سخت فوجی پروٹوکول پر عمل کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم، قومی پرچم اور پرچم کشائی کی پوری کارروائی کے اردگرد تعینات اہلکاروں کو مخصوص ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔ کیپٹن سونیا بھی اسی طے شدہ فوجی پروٹوکول کے تحت وزیراعظم کے ساتھ موجود تھیں۔

فوج میں خواتین کی بڑھتی شرکت کی علامت

ہفتہ کی صبح تقریباً 7 بج کر 30 منٹ پر وزیراعظم مودی جب لال قلعے کی فصیل پر پرچم کشائی کے لیے پہنچے تو کیپٹن سونیا فوجی پروٹوکول کے مطابق ان کی معاونت کے لیے موجود تھیں۔پرچم کشائی کی رسمی کارروائی شروع ہونے کے بعد وزیراعظم مودی کے ساتھ ایک ہی فریم میں کیپٹن سونیا نظر آئیں۔ انہوں نے قومی پرچم کی ایک ڈور تھام رکھی تھی اور پوری کارروائی مقررہ فوجی ضابطے کے مطابق انجام دی گئی۔کیپٹن سونیا کی موجودگی کو بھارتی مسلح افواج میں خواتین افسران کی بڑھتی ہوئی شرکت اور ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے جاری ’ناری شکتی‘ کے وسیع تر تصور کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

کیوں کھینچی سب کی توجہ؟

یومِ آزادی بھارت کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی قومی تقریبات میں سے ایک ہے۔ ایسے میں وزیراعظم کے بالکل سامنے موجود خاتون فوجی افسر کی تصاویر منظرِ عام پر آتے ہی لوگوں کی توجہ ان کی جانب مبذول ہوگئی۔خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومت مسلح افواج سمیت مختلف شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اور ’ناری شکتی‘ کو مسلسل اجاگر کر رہی ہے، کیپٹن سونیا کی موجودگی بھی خاصی نمایاں رہی۔

پرچم کشائی فوجی پروٹوکول کا حصہ

لال قلعے کی فصیل پر قومی پرچم لہرانا ایک انتہائی منظم اور باقاعدہ فوجی پروٹوکول کے تحت ہونے والی کارروائی ہے۔ یہ محض پرچم لہرانے کی عام تقریب نہیں ہوتی، بلکہ اس دوران قومی ترانے، 21 توپوں کی سلامی اور دیگر رسمی مراحل کے درمیان انتہائی درست تال میل برقرار رکھا جاتا ہے۔اس پورے عمل میں ہر مرحلے کے وقت کا پہلے سے تعین کیا جاتا ہے اور معمولی غلطی کی بھی گنجائش نہیں رکھی جاتی۔

’زیرو ایرر ٹائمنگ‘ کے مطابق تیاری

یومِ آزادی کی تقریب کے لیے ہر سال تینوں افواج، یعنی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ میں سے کسی ایک کو تقریب کے رابطہ اور انتظامی امور کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ اس کے لیے فوج کی جانب سے انتہائی باریک بینی کے ساتھ تیاری کی جاتی ہے اور ’زیرو ایرر ٹائمنگ‘ کے مطابق متعدد مشقیں کی جاتی ہیں۔وزارتِ دفاع کی جانب سے منتخب افسر کو وزیراعظم کے ساتھ تقریب کے مقام پر کھڑے ہوکر قومی پرچم کی رسیوں، سلامی اور دیگر رسمی کارروائیوں میں معاونت کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ اس اہم ذمہ داری کے لیے کئی ہفتے پہلے سے ریہرسل شروع کردی جاتی ہے، تاکہ یومِ آزادی کی مرکزی تقریب میں ہر مرحلہ مقررہ وقت اور فوجی پروٹوکول کے مطابق مکمل ہو۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read