Urdu Conclave 2026

Demolition in Jamia Nagar: بٹلہ ہاؤس کے سینکڑوں مسلمان ہوجائیں گے بے گھر؟ ڈی ڈی اے کی نوٹس کے بعد علاقے میں خوف وہراس، کیا ہوگی آگے کی حکمت عملی؟

تازہ ترین نوٹس میں سپریم کورٹ کے اسی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکانوں کو پندرہ دنوں کے اندر خالی کر دیں۔ نوٹس میں مکال خالی کرنے کی آخری تاریخ 11 جون بتائی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اسی دن سے شروع کر دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد علاقے کے رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

بٹلہ ہاؤس کے سینکڑوں افراد کے بے سہارا ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

نئی دہلی: بٹلہ ہاؤس کے کئی مکانات کےانہدام کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پرتازہ ترین نوٹس علاقے میں لگا دی گئی ہیں۔ نوٹس لگنے کے بعد سے بٹلہ ہاؤس علاقے میں ہنگامہ مچ گیا ہے۔ نوٹس میں خسرہ نمبر279 درج ہے اوریہ بٹلہ ہاؤس کے مرادی روڈ پر لگائے گئے ہیں۔ جامعہ نگرکے بٹلہ ہاؤس علاقہ میں رہنے والے لوگوں کی پریشانی میں زبردست اضافہ ہوگیا۔ تازہ نوٹس کے مطابق وہاں موجود مکانات اوردکانیں ڈی ڈی اے کی اراضی پربنائی گئی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی خاندان 1984 سے اس مکان میں رہتے ہیں اوران کے پاس جانے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

آئیے سب سے پہلے آپ کویہ بتادیں کہ پورا معاملہ کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے مئی کے پہلے ہفتے میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کو اوکھلا گاؤں کے کھسرہ نمبر 279 میں 4 بیگھہ سے زیادہ سرکاری زمین پر پھیلے غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جسٹس ابھے ایس اوکا اوراجل بھویان کی بنچ نے اتھارٹی سے کہا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندرتعمیل کا حلف نامہ داخل کرے۔ آپ کو بتا دیں کہ اس  سے پہلے خسرہ نمبر277 میں بھی ایسا ہی نوٹس لگایا گیا تھا۔ تاہم وہ معاملہ اس سے الگ ہے، کیونکہ وہ نوٹس یوپی ایریگیشن یا یوپی کے سنچائی محکمہ کی طرف سے لگایا تھا۔ وہاں کے رہنے والے لوگوں نے اس نوٹس کے خلاف عدالت کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنچ نے کہا ’’ہم ڈی ڈی اے کوہدایت دیتے ہیں کہ وہ 2 بیگھہ اور10 بسواؤں کے رقبے میں غیرقانونی تعمیرات کے سلسلے میں قانون کے مطابق ڈیمولیشن کی کارروائی کرے۔ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق عمل کیا جائے تو، کسی بھی ڈھانچے کوگرانے سے پہلے متعلقہ افراد کو کم از کم 15 دن کا نوٹس دیا جائے۔‘‘

تازہ ترین نوٹس میں سپریم کورٹ کے اسی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکانوں کو پندرہ دنوں کے اندر خالی کردیں۔ نوٹس میں مکان خالی کرنے کی آخری تاریخ 11 جون بتائی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اسی دن سے شروع کر دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد علاقے کے رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اس پورے معاملے کے بعد بٹلہ ہاؤس علاقے میں ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ لوگ پریشان ہیں اورہرکوئی اسی پر بات کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔بہرحال اب عدالت کا فیصلہ ہے اور اسی کو نوٹس لگائی گئی ہے۔ لیکن آگے کیا کارروائی ہوگی یہ تو بعد میں پتہ چلے گا، لیکن ابھی بڑی تعداد میں لوگ پریشان ہیں۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read