Bharat Express DD Free Dish

Demolition

۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسی علاقے میں ہندو خاندانوں کے گھروں پر بلڈوزر کارروائی ہوئی تھی، تب بھی انہوں نے آوازاٹھائی تھی اوراب مسجد کے خلاف کارروائی پر بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کے اپنے علاقے میں ان کی ہدایت پر بلڈوزر چلایا گیا۔

ہائی کورٹ میں درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیارکیا گیا کہ گجرات لینڈ ریوینیو ایکٹ ایسے احکامات کے خلاف اپیل کا قانونی حق فراہم کرتا ہے اور اپیل دائر کرنے کے لئے 90 دنوں کی مدت مقرر ہے۔ صرف 5 دن میں انہدام کا حکم نافذ کرنے کی ہدایت نہ صرف اس قانونی حق کو عملاً سلب کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ اصولِ انصاف کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران اوردیگر بااثرشخصیات پربدعنوانی کے حالیہ الزامات اخلاقی اقدار اور جوابدہی کے گہرے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بدعنوانی اب صرف سیاست، بیورو کریسی یا کاروباری دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ ان اداروں تک بھی پہنچ چکی ہے، جن پرلاکھوں افراد اپنی عقیدت کا اظہارکرتے ہیں۔

28 سالہ آفتاب رفیق شیخ، جو کورئیر ڈلیوری کا کام کرتے ہیں، انہو ں نے الزام لگایا کہ پولیس کارروائی کے دوران ان کی بہن زخمی ہو گئی۔  احتجاج کے دوران حالات بگڑنے کے بعد پولیس کارروائی میں ان کے خاندان کو بھی نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ وہ احتجاج میں شامل نہیں تھے ،

دہلی پولیس کے مطابق ترکمان گیٹ اور اس کے اطراف سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ فیضِ الٰہی مسجد اور قریبی علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فورس کو الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔

پولیس نے رکاوٹیں لا کر بارات گھر کے قریب اسی گلی میں رکھا ہے، جہاں بٹلہ ہاؤس میں ڈی ڈی اے کی جانب سے مکانات گرانے کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے بٹلہ ہاؤس میں مجوزہ ڈی ڈی اے کی بلڈوزر کارروائی پرروک لگا دی ہے۔ اس سے ایک درجن سے زیادہ عرضی گزاروں کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کیا ہے اور سبھی عرضی گزاروں کی درخواست پر10 جولائی کو سماعت ہوگی۔

دارالحکومت دہلی کے بٹلہ ہاؤس میں بلڈوزر کارروائی کے خلاف داخل عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، لیکن عدالت نے معاملہ آگے کے لئے ملتوی کردیا۔ عدالت نے بلڈوزر کارروائی پر روک لگانے سے بھی انکار کردیا۔

دہلی کے جامعہ نگر اور اوکھلا میں موجود کچھ عمارتوں کو غیر قانونی بتاتے ہوئے ڈی ڈی اے نے ان کو منہدہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ مقدمہ سنے کے تیارہوگیا ہے۔

تازہ ترین نوٹس میں سپریم کورٹ کے اسی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکانوں کو پندرہ دنوں کے اندر خالی کر دیں۔ نوٹس میں مکال خالی کرنے کی آخری تاریخ 11 جون بتائی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اسی دن سے شروع کر دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد علاقے کے رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔