Urdu Conclave 2026

کیا اوکھلا کے مکانات ٹوٹنے سے بچ جائیں گے؟ سپریم کورٹ کیسے سماعت کے لئے ہوا راضی؟

دہلی کے جامعہ نگر اور اوکھلا میں موجود کچھ عمارتوں کو غیر قانونی بتاتے ہوئے ڈی ڈی اے نے ان کو منہدہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ مقدمہ سنے کے تیارہوگیا ہے۔

نئی دہلی: دہلی کے جامعہ نگرعلاقے میں ان دنوں عوام کے درمیان ڈیمولیشن یا انہدامی کارروائی سے متعلق خوب بحث  یا چرچا ہو رہی ہے۔ ہرکوئی اس بات سے گھبرایا ہوا ہے کہ کہیں اس کا مکان یا دوکان اس زد میں نہ آجائے۔ کیونکہ جامعہ نگر کے کئی علاقوں میں اس طرح کی نوٹس لگائی گئی ہیں۔ حالانکہ الگ الگ نوٹس میں معاملہ مختلف طرح کا ہے، لیکن بات ہے ڈیمولیشن یا انہدامی کارروائی کی۔ اب یہ معاملہ عدالت میں پہنچ گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ جامعہ نگرعلاقہ کے اس معاملے کی سماعت کے لئے راضی بھی ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلے عرضی گزاروں کو دہلی ہائی کورٹ جانے کا مشورہ دیا تھا، لیکن عرضی گزاروں کے وکیل کے ذریعہ دی گئی دلیل کے بعد سپریم کورٹ راضی ہوگیا۔ بٹلہ ہاوس میں جن جائیدادوں کوخطرہ لاحق ہے، ان میں مکان سے لے کر دکان تک شامل ہیں۔ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے اسے غیرقانونی بتایا ہے۔ ایسے میں چیف جسٹس بی آرگوئی اوراے جی مسیح کی بنچ معاملے کوسننے کے لئے راضی ہوگئی ہے اوروہ اگلے ہفتے اس معاملے کی سماعت ہوگی۔

آئیے سب سے پہلے آپ کو بتاتے ہیں کہ پورا معاملہ کیا ہے اور عرضی گزاروں نے عدالت میں کیا کیا دلیلیں دی ہیں۔اس کے خلاف کئی وکیل سپریم کورٹ پہنچے۔ ان کی دلیل تھی کہ سپریم کورٹ کا ہی حکم ہے کہ اس طرح کے معاملوں میں کوئی بھی کارروائی سے پہلے کم ازکم 15 دنوں کا نوٹس جاری ہو۔ لیکن جامعہ اور اوکھلا کے خلاف ڈی ڈی اے نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے 26 مئی کو نوٹس جاری کرکے سیدھے علاقے کو خالی کرنے کی بات کہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ نے خسرہ نمبر 279 سے متعلق اپنا حکم دیا تھا، لیکن ڈی ڈی اے نے خسرہ نمبر 279 کے علاوہ 281 سے 285 تک کو بھی شامل کرلیا ہے۔  سپریم کورٹ پہنچے وکیلوں نے یہ بھی کہا کہ  ڈی ڈی اے نے ان کو بالکل بھی نہیں سنا، اس لئے انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اگلے ہفتے سماعت کی تاریخ طے کردی ہے۔

ڈی ڈی اے کی دلیل ہے کہ وہاں موجود سبھی گھریوپی ایرگیشن یا اترپردیش سینچائی محکمہ کی زمین پر تعمیر کئے گئے ہیں۔ اب اگر ڈی ڈی اے کی نوٹس کی بات کی جائے تواس نوٹس میں واضح طورپرلکھا ہوا ملا کہ سبھی کومطلع کیا جاتا ہے کہ اوکھلا میں انکروچمنٹ ہورکھا ہے۔ یہاں خضربابا کالونی اترپردیش حکومت کے سنچائی محکمہ کی زمین پرہے۔ یہاں موجود گھراوردوکان دونوں غیرقانونی ہیں اوران کو 15 دنوں کے اندرخالی کرنا ہوگا۔ ڈی ڈی اے کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے ذریعہ  8 مئی کے حکم کی بنیاد پرلیا گیا فیصلہ مانا جا رہا ہے۔ جہاں ڈی ڈی اے کو اوکھلا گاؤں میں موجود غیر قانونی تعمیرات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read