Batla House Demolition Case: بٹلہ ہاؤس میں پولیس کی سرگرمی سے خوف کا ماحول، عدالت سے لوگوں کو ملی بڑی راحت
ڈی ڈی اے یعنی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ بٹلہ ہاؤس کے مراد ی روڈ پر ڈیمولیشن سے متعلق لگائی گئی نوٹس پر مقامی لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے دو درجن سے زیادہ عرضی گزاروں کو راحت دی ہے۔ وہیں ساکیت کورٹ نے مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس علاقے کی 12 جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 17 جولائی تک اسٹے دے دیا ہے۔
Batla House Demolition Case: بٹلہ ہاؤس میں بیریکیڈنگ سے ہنگامہ، دہلی پولیس نے کی میپنگ، عدالت کے اسٹے سے راحت
نوٹس کو دیکھتے ہوئے کئی مکان اور دوکان خالی ہوچکے ہیں۔ تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کہیں نہیں جائیں گے کیونکہ سالوں سے اس جگہ پر رہتے آئے ہیں۔ لوگوں نے اپنا سب کچھ مکان میں لگا دیا۔ جب مکان کی تعمیر ہو رہی تھی، تب ڈی ڈی اے کہاں تھا؟ زمین کہاں تک ہے، خود ڈی ڈی اے کو نہیں معلوم ہے۔
Batla House Demolition Case: بٹلہ ہاؤس میں ابھی نہیں چلے گا بلڈوزر! عدالت سے ملی بڑی راحت، اب تک 44 جائیدادوں کومل گیا اسٹے
بٹلہ ہاؤس کے مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس علاقے کی 12 جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت آج ساکیت کورٹ میں ہوئی۔ عدالت نے ان سبھی 12 معاملوں میں 17 جولائی تک اسٹے آرڈر جاری کردیا ہے۔
Batla House Demolition Case: دہلی کے بٹلہ ہاؤس میں چلنے جارہا ہے بلڈوزر، لوگوں میں دہشت کا ماحول،خالی کررہے ہیں گھر اور دکانیں
پولیس نے رکاوٹیں لا کر بارات گھر کے قریب اسی گلی میں رکھا ہے، جہاں بٹلہ ہاؤس میں ڈی ڈی اے کی جانب سے مکانات گرانے کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔
Batla House Demolition Case: بٹلہ ہاؤس میں چلے گا بلڈوزر! سپریم کورٹ نے روک لگانے سے کیا انکار، جانئے پورا معاملہ
دارالحکومت دہلی کے بٹلہ ہاؤس میں بلڈوزر کارروائی کے خلاف داخل عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، لیکن عدالت نے معاملہ آگے کے لئے ملتوی کردیا۔ عدالت نے بلڈوزر کارروائی پر روک لگانے سے بھی انکار کردیا۔
بٹلہ ہاؤس کی عوام کو عدالت سے بڑی راحت، دہلی ہائی کورٹ نے یوگی حکومت کا بلڈوزر نہیں چلنے دیا، دیکھیں ویڈیو
جامعہ نگرکے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے سینچائی محکمہ کو مرادی روڈ، خضربابا کالونی، جامعہ نگر، اوکھلا میں خسرہ نمبر 277 میں واقع ان کی متعلقہ جائیداد کومنہدم کرنے سے روکنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا تھا۔دراصل، اترپردیش سنچائی محکمہ نے علاقے میں کئی دوکانوں اور مکانوں پرغیرقانونی تعمیرات کا دعویٰ کرتے ہوئے نوٹس لگادیا گیا تھا اور 5 جون تک خالی کرنے کو کہا تھا۔
Jamia Nagar Bulldozer Action News: جامعہ نگر میں نہیں چلے گا یوگی حکومت کا بلڈوزر، دہلی ہائی کورٹ نے لگائی روک
جامعہ نگر کے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے اترپردیش سنچائی محکمہ کی انہدامی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے میں جامعہ نگر کے لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اگلی سماعت تک کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
کیا اوکھلا کے مکانات ٹوٹنے سے بچ جائیں گے؟ سپریم کورٹ کیسے سماعت کے لئے ہوا راضی؟
دہلی کے جامعہ نگر اور اوکھلا میں موجود کچھ عمارتوں کو غیر قانونی بتاتے ہوئے ڈی ڈی اے نے ان کو منہدہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ مقدمہ سنے کے تیارہوگیا ہے۔
Batla House Demolition Case: بٹلہ ہاؤس توڑ پھوڑ معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، اگلے ہفتے ہوگی سماعت
عرضی گزار کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے خود حکم جاری کیا تھا، اس معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔ ڈی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ کھسرہ نمبر 279 کی زمین دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ہے اور اس پر غیر قانونی طور پر مکانات بنائے گئے ہیں۔
Demolition in Jamia Nagar: بٹلہ ہاؤس کے سینکڑوں مسلمان ہوجائیں گے بے گھر؟ ڈی ڈی اے کی نوٹس کے بعد علاقے میں خوف وہراس، کیا ہوگی آگے کی حکمت عملی؟
تازہ ترین نوٹس میں سپریم کورٹ کے اسی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکانوں کو پندرہ دنوں کے اندر خالی کر دیں۔ نوٹس میں مکال خالی کرنے کی آخری تاریخ 11 جون بتائی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اسی دن سے شروع کر دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد علاقے کے رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔




