Urdu Conclave 2026

Batla House

ڈی ڈی اے یعنی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی  کے ذریعہ بٹلہ ہاؤس کے مراد ی روڈ پر ڈیمولیشن سے متعلق لگائی گئی نوٹس پر مقامی لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے دو درجن سے زیادہ عرضی گزاروں کو راحت دی ہے۔ وہیں ساکیت کورٹ نے مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس علاقے کی 12 جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 17 جولائی تک اسٹے دے دیا ہے۔

نوٹس کو دیکھتے ہوئے کئی مکان اور دوکان خالی ہوچکے ہیں۔ تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کہیں نہیں جائیں گے کیونکہ سالوں سے اس جگہ پر رہتے آئے ہیں۔ لوگوں نے اپنا سب کچھ مکان میں لگا دیا۔ جب مکان کی تعمیر ہو رہی تھی، تب ڈی ڈی اے کہاں تھا؟ زمین کہاں تک ہے، خود ڈی ڈی اے کو نہیں معلوم ہے۔

بٹلہ ہاؤس کے مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس علاقے کی 12 جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت آج ساکیت کورٹ میں ہوئی۔ عدالت نے ان سبھی 12 معاملوں میں 17 جولائی تک اسٹے آرڈر جاری کردیا ہے۔

پولیس نے رکاوٹیں لا کر بارات گھر کے قریب اسی گلی میں رکھا ہے، جہاں بٹلہ ہاؤس میں ڈی ڈی اے کی جانب سے مکانات گرانے کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔

دارالحکومت دہلی کے بٹلہ ہاؤس میں بلڈوزر کارروائی کے خلاف داخل عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، لیکن عدالت نے معاملہ آگے کے لئے ملتوی کردیا۔ عدالت نے بلڈوزر کارروائی پر روک لگانے سے بھی انکار کردیا۔

جامعہ نگرکے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے سینچائی محکمہ کو مرادی روڈ، خضربابا کالونی، جامعہ نگر، اوکھلا میں خسرہ نمبر 277 میں واقع ان کی متعلقہ جائیداد کومنہدم کرنے سے روکنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا تھا۔دراصل،  اترپردیش سنچائی محکمہ نے علاقے میں کئی دوکانوں اور مکانوں پرغیرقانونی تعمیرات کا دعویٰ کرتے ہوئے  نوٹس لگادیا گیا تھا اور 5 جون تک خالی کرنے کو کہا تھا۔

جامعہ نگر کے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے اترپردیش سنچائی محکمہ کی انہدامی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے میں جامعہ نگر کے لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اگلی سماعت تک کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

دہلی کے جامعہ نگر اور اوکھلا میں موجود کچھ عمارتوں کو غیر قانونی بتاتے ہوئے ڈی ڈی اے نے ان کو منہدہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ مقدمہ سنے کے تیارہوگیا ہے۔

عرضی  گزار کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے خود حکم جاری کیا تھا، اس معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔ ڈی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ کھسرہ نمبر 279 کی زمین دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ہے اور اس پر غیر قانونی طور پر مکانات بنائے گئے ہیں۔

تازہ ترین نوٹس میں سپریم کورٹ کے اسی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکانوں کو پندرہ دنوں کے اندر خالی کر دیں۔ نوٹس میں مکال خالی کرنے کی آخری تاریخ 11 جون بتائی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اسی دن سے شروع کر دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد علاقے کے رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔