Urdu Conclave 2026

Jamia Nagar

آگ زنی کے اس حادثہ کے دوران 3 افراد کوگولی لگی تھی اورمتعدد پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ ساتھ ہی سرکاری املاک کوبھی شدید نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ اب واقعہ کے تقریباً 19 سال بعد، راؤز ایوینیو کورٹ کے مجسٹریٹ نے سابق رکن اسمبلی سمیت آصف محمد خان اور دیگر ملزمین کے خلاف سنگین دفعات میں الزامات طے کئے۔

ڈی ڈی اے کی جانب سے عدالت میں دعویٰ کیا گیا کہ خسرہ نمبر 279 سے متعلق انہدامی کارروائی کا حکم سپریم کورٹ سے حاصل کیا گیا ہے اور صرف اسی مخصوص خسرہ نمبر پر موجود غیر قانونی تعمیرات کے خلاف نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

نوٹس کو دیکھتے ہوئے کئی مکان اور دوکان خالی ہوچکے ہیں۔ تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کہیں نہیں جائیں گے کیونکہ سالوں سے اس جگہ پر رہتے آئے ہیں۔ لوگوں نے اپنا سب کچھ مکان میں لگا دیا۔ جب مکان کی تعمیر ہو رہی تھی، تب ڈی ڈی اے کہاں تھا؟ زمین کہاں تک ہے، خود ڈی ڈی اے کو نہیں معلوم ہے۔

دارالحکومت دہلی کے بٹلہ ہاؤس میں بلڈوزر کارروائی کے خلاف داخل عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، لیکن عدالت نے معاملہ آگے کے لئے ملتوی کردیا۔ عدالت نے بلڈوزر کارروائی پر روک لگانے سے بھی انکار کردیا۔

جامعہ نگرکے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے سینچائی محکمہ کو مرادی روڈ، خضربابا کالونی، جامعہ نگر، اوکھلا میں خسرہ نمبر 277 میں واقع ان کی متعلقہ جائیداد کومنہدم کرنے سے روکنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا تھا۔دراصل،  اترپردیش سنچائی محکمہ نے علاقے میں کئی دوکانوں اور مکانوں پرغیرقانونی تعمیرات کا دعویٰ کرتے ہوئے  نوٹس لگادیا گیا تھا اور 5 جون تک خالی کرنے کو کہا تھا۔

جامعہ نگر کے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے اترپردیش سنچائی محکمہ کی انہدامی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے میں جامعہ نگر کے لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اگلی سماعت تک کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

دہلی کے جامعہ نگر اور اوکھلا میں موجود کچھ عمارتوں کو غیر قانونی بتاتے ہوئے ڈی ڈی اے نے ان کو منہدہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ مقدمہ سنے کے تیارہوگیا ہے۔

تازہ ترین نوٹس میں سپریم کورٹ کے اسی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکانوں کو پندرہ دنوں کے اندر خالی کر دیں۔ نوٹس میں مکال خالی کرنے کی آخری تاریخ 11 جون بتائی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اسی دن سے شروع کر دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد علاقے کے رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

ستمبر 2020 میں ڈی ڈی اے کی طرف سے اس علاقے میں مسمار کرنے کی مہم شروع کی گئی، جو بنیادی طور پر ایسے  لوگوں  کے گھر ہے جو یومیہ اجرت والے مزدوروں اور گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں۔

ایم ایل اے امانت اللہ خان پر الزام ہے کہ وہ اور ان کے حامیوں نے ملزم کو پولیس کی حراست سے آزاد کرایا، جس کے بعد ملزم فرار ہو گیا۔