Bharat Express DD Free Dish

DDA

دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے حال ہی میں ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ پچاس سال سے زیادہ پرانے، انفرادی پلاٹ پر بنے دو منزلہ ڈی ڈی اے مکانوں کی تعمیر نو اور ری ڈیولپمنٹ کے لیے ایک یکساں پالیسی کو منظوری دے دی گئی ہے۔ دہلی کی کئی پرانی کالونیوں کے باشندوں کے لیے یہ طویل عرصے سے چلی آ رہی مانگ کا جواب ہے۔

متوفی کے اہل خانہ نے انتظامیہ پر شدید لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ سورج کی بھابھی ریتو نے کہا کہ اگر نالہ ڈھکا ہوتا یا یہاں روشنی کا مناسب انتظام ہوتا تو آج ان کا خاندان اس سانحے کا شکار نہ ہوتا۔ متوفی کے بھائی دھیرو نے بھی ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے منگل کے روز دہلی کے مہرولی میں درگاہ اوربابا فرید چلؔاگاہ کے انہدام کے خلاف دائردرخواستوں پرسماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ ہم اس حکم کو جاری رکھیں گے کہ موجودہ ڈھانچے میں مزید کوئی تبدیلی یا اضافہ نہیں ہونا چاہئے، لیکن جو کچھ ہے اسے محفوظ رکھا جائے، کوئی 13ویں صدی کی یادگارکوگرانے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔

ڈی ڈی اے کی جانب سے عدالت میں دعویٰ کیا گیا کہ خسرہ نمبر 279 سے متعلق انہدامی کارروائی کا حکم سپریم کورٹ سے حاصل کیا گیا ہے اور صرف اسی مخصوص خسرہ نمبر پر موجود غیر قانونی تعمیرات کے خلاف نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

ڈی ڈی اے یعنی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی  کے ذریعہ بٹلہ ہاؤس کے مراد ی روڈ پر ڈیمولیشن سے متعلق لگائی گئی نوٹس پر مقامی لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے دو درجن سے زیادہ عرضی گزاروں کو راحت دی ہے۔ وہیں ساکیت کورٹ نے مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس علاقے کی 12 جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 17 جولائی تک اسٹے دے دیا ہے۔

بٹلہ ہاؤس کے مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس علاقے کی 12 جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت آج ساکیت کورٹ میں ہوئی۔ عدالت نے ان سبھی 12 معاملوں میں 17 جولائی تک اسٹے آرڈر جاری کردیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے بٹلہ ہاؤس میں مجوزہ ڈی ڈی اے کی بلڈوزر کارروائی پرروک لگا دی ہے۔ اس سے ایک درجن سے زیادہ عرضی گزاروں کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کیا ہے اور سبھی عرضی گزاروں کی درخواست پر10 جولائی کو سماعت ہوگی۔

یہ حکم اس وقت آیا ہے جب دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے انہدامی کارروائی کو روکنے کی کسی بھی آفیشیل یقین دہانی سے انکار کر دیا تھا۔

تازہ ترین نوٹس میں سپریم کورٹ کے اسی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکانوں کو پندرہ دنوں کے اندر خالی کر دیں۔ نوٹس میں مکال خالی کرنے کی آخری تاریخ 11 جون بتائی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ انہدامی کارروائی اسی دن سے شروع کر دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد علاقے کے رہائشی شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

لیفٹیننٹ گورنر کے گزشتہ ہفتے نجف گڑھ کے ایک کیمپ کے دورے کے دوران، کئی لوگوں نے، اس اقدام کو سراہتے ہوئے، ان سے درخواست کی تھی کہ وہ جائیدادوں کے لیے موقع پر ہی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کریں۔ اس کے بعد سکسینہ نے کیمپوں میں سب رجسٹراروں کی موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔