Bharat Express DD Free Dish

اروند کیجریوال-سسودیا سمیت عام آدمی پارٹی کے کئی لیڈران کی مشکلات میں اضافہ، دہلی ہائی کورٹ نے توہین عدالت معاملے میں مانگا جواب

دہلی ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا اورسنجے سنگھ سمیت دیگرلیڈران سے ان کے تبصروں کے لئے جسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف تبصروں کے لئے توہین عدالت کے معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے 14 مئی کے حکم کی بنیاد پرکارروائی شروع کی، جس میں سوشل میڈیا پوسٹس اوردیگرمواد کا حوالہ دیا گیا تھا۔ یہ معاملہ ایکسائز پالیسی کیس سے متعلق ہے، جہاں سیاسی لیڈران نے جج کوہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے منگل کوجسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف تبصرہ سے متعلق توہین عدالت کے ایک مجرمانہ کیس میں اروند کیجریوال، منیش سسودیا، سنجے سنگھ اوردیگرسے جواب مانگا ہے۔ جسٹس نوین چاولہ اوررویندرڈوڈیجا کی بینچ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ 14 مئی کوآرڈرکی بنیاد پرکارروائی شروع کی گئی ہے۔ سنگل جج نے سوشل میڈیا پوسٹ اور دوسرے الیکٹرانک اورپبلیکیشن ریکارڈ سے ملے مٹیریل (مواد) پربھروسہ کیا ہے۔  رجسٹری کوحکم دیا جاتا ہے کہ اس کی کاپی سنبھال کررکھیں اورانہیں اس کورٹ کے سامنے رکھیں۔ مبینہ توہین عدالت کے ملزمین 4 ہفتے میں اپنا جواب داخل کرسکتے ہیں۔

حالانکہ سماعت کے دوران عدالت کے سامنے کوئی وکیل پیش نہیں ہوا، پھربھی عدالت نے کہا کہ مدد کے لئے ایک ایمکس اپائنٹ (عدالت کا دوست) کرے گا۔ دہلی ہائی کورٹ اس کیس کی اگلی سماعت 4 اگست کوکرے گی۔ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اوردرگیش پاٹھک نے جسٹس سورن کانتا شرما کوہٹانے کی درخواست کی تھی، جوایکسائزکیس میں ٹرائل کورٹ کی بریت کوچیلنج کرنے والی سی بی آئی کی درخواست کی سماعت کررہے تھے۔ تاہم، جسٹس سورن کانتا شرما نے 20 اپریل کوکیس سے ان کی برطرفی کومسترد کردیا۔

عام آدمی پارٹی کے لیڈران نے کیا تھا جج کوہٹانے کا مطالبہ
جج نے اس حکم میں کہا تھا کہ کسی لیڈرکوعدم اعتماد کی بیج بونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اوران کے کیس سے ہٹانے کی درخواست عدلیہ کوٹرائل میں لانے کے مترادف ہے۔ جسٹس شرما نے ان کے حکم سے پہلے اوربعد میں ان کے خلاف کئی سوشل میڈیا پوسٹس سامنے آنے کے بعد توہین عدالت کی کارروائی شروع کی۔ کارروائی شروع کرنے کے اپنے تفصیلی حکم میں، جسٹس شرما نے کیجریوال، منیش سسودیا اوردرگیش پاٹھک کی طرف سے کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کے لئے لکھے گئے خطوط اوران لیڈروں نے جسٹس شرما کے سامنے پوسٹ کئے گئے ان ویڈیوزکوبھی نوٹ کیا، جس میں کیس کا بائیکاٹ کرنے کی وجوہات بیان کیں۔
توہین عدالت کے مقدمے کی شروعات کی وجہ سے، جج نے ہدایت دی کہ ایکسائزپالیسی کیس کوکسی اوربینچ میں منتقل کیا جائے، کیونکہ کیجریوال اورسسودیا اس معاملے میں ملزم ہیں۔ اس کے بعد، توہین کا معاملہ جسٹس چاولہ اورڈوڈیجا کے سامنے درج کیا گیا۔ جبکہ اروند کیجریوال سمیت دیگرکوآبکاری پالیسی کیس سے بری کرنے کے ٹرائل کورٹ کے حکم کے خلاف سی بی آئی کی اپیل جسٹس منوج جین کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو- 



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read