چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کی پارٹی نے وقف بل کی حمایت کی ہے۔
Waqf Amendment Bill 2024: وقف ترمیمی بل کے لوک سبھا میں پیش ہونے سے پہلے ملک میں سیاست گرما گئی ہے۔ چندرا بابونائیڈو کی تیلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) وقف ترمیمی بل کی حمایت کرنے کی بات کہی ہے۔ ٹی ڈی پی نے کہا کہ چندرا بابونائیڈومسلمانوں کے حق میں ہیں۔ ٹی ڈی پی لیڈرپریم کمار جین نے کہا کہ پارلیمنٹ میں پیش ہونے والے وقف ترمیمی بل پر پورے ملک کے مسلمانوں کی نظریں مرکوز ہیں۔
وقف ترمیمی بل کی حمایت کرے گی ٹی ڈی پی
ٹی ڈی پی لیڈر پریم کمارجین نے کہا کہ پارلیمنٹ میں پیش ہونے والے وقف ترمیمی بل پر پورے ملک کے مسلمانوں کی بھی نظریں مرکوزہیں۔ انہوں نے کہا کہ “تقریباً 9 لاکھ ایکڑوقف بورڈ کی زمین پر بہت سے لوگوں نے غیرقانونی طریقے سے قبضہ کررکھا ہے۔ ہماری پارٹی وقف ترمیمی بل کی حمایت کرے گی۔”
ٹی ڈی پی نے ہمیشہ وقف جائیداد کا تحفظ کیا
آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابونائیڈو نے حال ہی میں کہا کہ ٹی ڈی پی حکومت نے ہمیشہ وقف جائیداد کا تحفظ کیا ہے اورآگے بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ “جب سرکاری حکم جاری کیا گیا تھا توغیرضروری تنازعہ کھڑا ہوا، اس لئے جب عدالتوں سے رجوع کیا گیا توایک وقت آیا کہ وقف بورڈ نے کام کرنا بند کردیا، ہماری حکومت آنے کے بعد ہم نے اس حکم پرروک لگا دی، سب کی رائے لے کرایک ورکنگ بورڈ بنایا گیا، ہم وقف بورڈ کی جائیدادوں کی حفاظت کریں گے، ہم محروم مسلم خاندانوں کی معاشی ترقی کے لیے کام کریں گے۔”
جے ڈی یواور ایل جے پی کا رخ
بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) کے لیڈران کے بیان سے بھی اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ وہ اس بل کی حمایت میں ہیں۔ جے ڈی یونے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے مسلمانوں کوگمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس بل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے، جوان کے حقوق چھیننے جیسا ہو۔ وہیں این ڈی اے کی دیگر پارٹیاں لوک جن شکتی پارٹی-رام ولاس (ایل جے پی-آر) کے صدر چراغ پاسوان اس بل سے متعلق کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن کوگمراہ کررہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



