Bharat Express DD Free Dish

Bridge collapse in Pune: پونے میں اندریانی ندی پر بنا ہوا پُل ٹوٹ کر گِرا، 2 سیاحوں کی موت، کئی اور کے ڈوبنے کا خدشہ

مقامی لوگوں نے اس پل کے ٹوٹ گرنے کے خدشات کا اظہار پہلے بھی کیا تھا، لیکن بہت سے سیاح اس ممکنہ خطرے سے آگاہ نہیں تھے۔

پونے میں اندریانی ندی پر بنایا گیا ایک لوہے کا پل گرنے سے 2 سیاحوں کی موت ہو گئی ہے اور کئی اور کے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔ یہ واقعہ آج کنڈمالا میں پیش آیا جو کہ ایک مشہور سیاحتی مقام ہے اور مانسون کے دوران یہاں بڑی تعدد میں سیاح آتے ہیں۔ اطلاع کے مطابق تقریباً 15 سے 20 سیاح اس وقت پل پر موجود تھے، جب پل گرا۔ پانی کا تیز بہاؤ شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے مزید خطرناک ہو گیا اور مانا جا رہا ہے کہ یہی پل کے گرنے کی وجہ بنا ہے۔

این ڈی آر ایف موقع پر پہنچی

پل گرنے کی وجہ سے کچھ سیاح بہتی ہوئی ندی میں جا گرے اور ندی کی تیز دھار میں بہنے کی وجہ سے ڈوب گئے۔ وہیں کچھ سیاح شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں اور کئی اور کے ڈونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) سمیت پولیس اور ڈیزاسٹر ریلیف کارکن موقع پر پہنچ گئے ہیں اور بچاؤ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اب تک آٹھ افراد کو بچا لیا گیا ہے، کیوں کہ سرکاری ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے ہی مقامی اور پولیس نے بچاؤ کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ تاہم دو خواتین تاحال پل کے نیچے پھنسی ہوئی ہیں۔

مقامی لوگوں کو پہلے ہی تھا پل کے ٹوٹ گرنے کا خدشہ

واضح رہے کہ مقامی لوگوں نے اس پل کے ٹوٹ گرنے کے خدشات کا اظہار پہلے بھی کیا تھا، لیکن بہت سے سیاح اس ممکنہ خطرے سے آگاہ نہیں تھے۔ وہیں علاقے میں اورنج الرٹ لگا ہوا ہے اور لگاتا دو دنوں سے بارش ہو رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 4-5 سال اس پل کی تزئین و آرائش کی گئی تھی، تاہم وہ خطرہ مکمل طور پر ٹالنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read