ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست کے لیے کل کا دن انتہائی اہم ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت ریاست کی 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی صبح 10 بجے سے شروع ہوگی۔ ووٹنگ کا عمل پُرامن طریقے سے مکمل ہو گیا تھا اور اب تمام امیدواروں کی قسمت الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند ہو چکی ہے۔ ریاست کے مختلف حصوں میں صبح سویرے سے ہی ووٹرز پولنگ بوتھس پر پہنچنے لگے تھے۔ شام تک ووٹنگ کا سلسلہ جاری رہا اور انتظامیہ کے مطابق کہیں سے بھی کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ ممبئی کے علاوہ تھانے، نوی ممبئی، پونے، ناگپور، ناسک، کلیان-ڈومبیولی، وسئی-ویرار، کولہاپور، سولاپور، چھترپتی سمبھاجی نگر اور امراوتی سمیت کل 29 شہری اداروں میں رائے دہی ہوئی۔
میونسپل کمشنر بھوشن گگرانی نے بتایا کہ ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل شفافیت اور سخت سکیورٹی کے درمیان انجام دیا جائے گا۔ صرف ممبئی میں ہی 23 مختلف مراکز پر کاؤنٹنگ روم قائم کیے گئے ہیں، جہاں ہر مرحلے پر افسران کی نگرانی میں گنتی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نتائج کے اعلان تک قانون و انتظام برقرار رکھنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ گنتی کے دوران کسی بھی طرح کی بدنظمی سے نمٹنے کے لیے پولیس اور شہری انتظامیہ الرٹ موڈ پر ہے۔ کاؤنٹنگ مراکز کے آس پاس اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے، جبکہ ٹریفک کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ عام شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس پوری گنتی کے عمل کو بخوبی انجام دینے کے لیے 2299 افسران اور ملازمین کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ ان میں الیکشن افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر متعلقہ محکموں کے ملازمین شامل ہیں، جو مرحلہ وار ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ اگرچہ ووٹنگ کا عمل ختم ہو چکا ہے، مگر سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان انتخابات کے نتائج مہاراشٹر کی آئندہ سیاست کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ شہری سطح کے یہ انتخابات براہِ راست عوامی مسائل سے جڑے ہوتے ہیں، اسی لیے گلی کوچوں میں بھی جیت اور ہار کے امکانات پر بحث جاری ہے۔ تمام نظریں اب کل آنے والے نتائج پر مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




