مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آسام کی بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کو مغربی بنگال میں مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب آسام کے غیر ملکی ٹربیونلز نے کوچ بہار کے علاقے دنہاٹا میں 50 سال سے رہنے والے راج بنشی کسان اتم کمار برج باسی کو ’’غیر قانونی تارک وطن‘‘ قرار دیتے ہوئے نوٹس جاری کیا۔
یہ جمہوریت پر منظم حملہ ہے — ممتا بنرجی کا الزام
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں ممتا بنرجی نے لکھا: میں یہ جان کر حیران و پریشان ہوں کہ آسام میں غیر ملکی ٹربیونلز نے کوچ بہار کے دنہاٹا میں 50 سال سے رہ رہے راج بنشی اتم کمار برج باسی کو این آر سی نوٹس جاری کیا ہے۔ درست شناختی دستاویزات ہونے کے باوجود انہیں غیر ملکی ہونے کے شبہے میں پریشان کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: یہ جمہوریت پر منظم حملہ ہے اور بی جے پی کے اس خطرناک منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ بنگال میں غیر آئینی طور پر این آر سی لاگو کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں ان کا کوئی دائرہ اختیار نہیں۔
حاشیہ پر کھڑے طبقوں کو ڈرانے کی کوشش
ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اقلیتوں، قبائلیوں، اور پسماندہ طبقات پر ایک منظم دباؤ ہے تاکہ انہیں ان کے جمہوری حقوق سے محروم کیا جا سکے۔ یہ غیر آئینی، عوام دشمن اور بنگال کی شناخت کو مٹانے کی کوشش ہے۔ بی جے پی ملک کے آئینی ڈھانچے کو پامال کر رہی ہے۔
تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے تمام اپوزیشن پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ اس جابرانہ رویے کے خلاف متحد ہوں۔ ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ یہ وقت ہے کہ تمام جمہوری قوتیں بی جے پی کی تفرقہ انگیز اور مطلق العنان پالیسیوں کے خلاف ایک ساتھ کھڑی ہوں۔
میں نے کوچ بہار سے باہر قدم بھی نہیں رکھا
ادھر کسان اتم کمار برج باسی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں پانچ دہائیوں سے کوچ بہار میں رہ رہا ہوں۔ میرے پاس تمام ضروری ہندوستانی شناختی دستاویزات موجود ہیں، پھر بھی مجھے غیر ملکی کہا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ مغربی بنگال میں خوف اور تشویش کی لہر کا باعث بن رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

