بہار اسمبلی انتخابات میں شاندار کارکردگی کے بعد اب این ڈی اے کی نئی حکومت کی تشکیل کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ حکومت سازی کو لے کر بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان پہلے دور کی بات چیت مکمل ہو گئی ہے۔ کابینہ کی تشکیل اور اتحادی جماعتوں کی حصے داری کا فارمولا طے ہو گیا ہے۔ ہر 6 ایم ایل اے پر ایک وزیر کا فارمولا نافذ کیا جا سکتا ہے۔ بی جے پی کے مرکزی لیڈروں سے گفتگو مکمل کرنے کے بعد جے ڈی یو کے قومی کارگزار صدر سنجے کمار جھا اتوار 16 نومبر کو پٹنہ واپس آئیں گے۔ پٹنہ پہنچ کر وہ وزیراعلیٰ نتیش کمار سے ملاقات کریں گے۔ سنجے کمار جھا جے ڈی یو ودھان منڈل کے اجلاس اور این ڈی اے ودھان منڈل کے اجلاس کی تیاریوں کو آگے بڑھائیں گے۔
جے ڈ یو ودھان منڈل کا اجلاس کب؟
جے ڈی یو ذرائع کے مطابق پیر 17 نومبر کو ہی جے ڈی یو ودھان منڈل کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے۔ 18 نومبر تک این ڈی اے کا لیڈر منتخب کرنے کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ بی جے پی اب دیگر اتحادی جماعتوں سے حکومت سازی پر مزید گفت و شنید کرے گی۔
جیتن رام مانجھی اور اپندر کشواہا کی ملاقات
ہندوستانی عوام مورچہ (HAM) کے سرپرست اور مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی آج گیا سے دہلی پہنچیں گے۔ مانجھی دہلی میں وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ وہیں اپندر کشواہا پٹنہ سے دہلی روانہ ہو چکے ہیں اور وہ بھی امت شاہ سے ملاقات کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی ایل جے پی (رام ولاس) کے سربراہ چراغ پاسوان بھی اتوار 16 نومبر کو پٹنہ سے دہلی جا رہے ہیں۔ دہلی میں ایل جے پی (آر)، ایچ اے ایم اور آر ایل ایم کے ساتھ حکومت سازی پر بات چیت ہوگی۔
اسمبلی انتخابات میں کس کو کتنی نشستیں؟
بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 202 نشستیں جیتیں۔ بی جے پی نے سب سے زیادہ 89 نشستیں جیت کر ریاست کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی جبکہ جے ڈی یو نے 85 نشستیں حاصل کرکے دوسری سب سے بڑی جماعت کا مقام حاصل کیا۔ چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس) نے 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ جیتن رام مانجھی کی جماعت ایچ اے ایم نے 5 سیٹیں جیتیں اور اپندر کشواہا کی آر ایل ایم نے 4 نشستیں حاصل کیں۔ دوسری جانب عظیم اتحاد صرف 35 نشستوں تک محدود رہ گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

