اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: مہاراشٹرکے مالیگاؤں میں 17 سال قبل ہوئے بم دھماکے کے معاملے میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں تمام ملزمان کوالزامات ثابت نہ ہونے پر بری کردیا۔ اس معاملے کے بارے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا مرکزی حکومت اورفڑنویس حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی؟
عدالت کا فیصلہ مایوس کن: اویسی
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے مالیگاؤں دھماکہ کیس پرعدالت کے فیصلے کومایوس کن قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں 6 نمازی شہید اور100 کے قریب زخمی ہوئے۔ انہیں ان کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے نے جان بوجھ کر اس معاملے میں ناقص تفتیش کی ہے، جس کی وجہ سے آج یہ لوگ بری ہوگئے ہیں۔
بی جے پی حکومت سے پوچھا سوال
حکومت سے سوال پوچھتے ہوئے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ کیا مودی اورفڑنویس حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی، جس طرح انہوں نے ممبئی ٹرین دھماکوں کے ملزمین کے بامبے ہائی کورٹ سے بری کئے جانے پرروک لگانے کا مطالبہ کیا تھا؟ کیا مہاراشٹرکی سیکولرسیاسی پارٹیاں جوابدہی کا مطالبہ کریں گی؟ ان 6 لوگوں کوکس نے مارا؟
#WATCH | On NIA court acquitting all the accused in the Malegaon Blast case, AIMIM MP Asaduddin Owaisi says, “… After 17 years, all the accused were acquitted. The Maharashtra government went to the Supreme Court against the verdict of the Mumbai 2006 Mumbai train blast case.… pic.twitter.com/qNi7FnFFpP
— ANI (@ANI) July 31, 2025
کیا ہے پورا معاملہ؟
آپ کو بتادیں کہ 29 ستمبر2008 کومہاراشٹرکے مالیگاؤں میں ایک مسجد کے قریب کھڑی موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد پھٹ گیا تھا۔ اس دھماکے میں 6 افراد ہلاک اور100 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس معاملے میں بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ پرگیہ سادھوی سمیت کئی لوگوں کوگرفتارکیا گیا تھا۔ 2017 میں سپریم کورٹ نے سادھوی پرگیہ کو ضمانت دی تھی۔ اس معاملے میں ملزمین کوبری کرتے ہوئے عدالت نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ این آئی اے تمام الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


