Major Action by NIA Court: این آئی اے عدالت کا بڑا ایکشن، پاکستان میں موجود مبینہ دہشت گرد ہینڈلر کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری
این آئی اے نے عدالت کے سامنے اپنی درخواست میں کہا کہ ملزم تفتیش اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے فرار ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے بھی ملزم کو مفرور پایا۔ اس کے بعد عدالت نے این آئی اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔این آئی اے کے مطابق اس کارروائی کا مقصد فرار ملزمان کو قانونی کارروائی کے دائرے میں لانا اور کیس کی تحقیقات کو مزید آگے بڑھانا ہے۔
NIA Court Declares Vishal Pachar Fugitive: این آئی اے عدالت نے گینگسٹر وشال پچار کو قرار دیا ’بھگوڑا‘، پوسٹر چسپاں کر اور ڈھول بجا کر کیا گیا اعلان
این آئی اے عدالت (NIA Court) نے بدنام زمانہ گینگسٹر وشال پچار عرف ببلو کو ’بھگوڑا‘قرار دے دیا ہے۔ جے پور کی ٹیم نے ڈھول بجا کر عوامی طور پر اس کا اعلان کیا اور مختلف مقامات پر پوسٹر بھی چسپاں کیے۔
Delhi Red Fort Blast Case: دہلی لال قلعہ بلاسٹ معاملہ، تحقیقات کے لیے این آئی اے کو مزید 45 دن کی مہلت، نئے سراغ ملنے کا دعویٰ
این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کے تار صرف بھارت تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے بین الاقوامی روابط بھی ہو سکتے ہیں۔ ایجنسی سازش کا پردہ فاش کرنے کے لیے ہر پہلو سے باریک بینی سے تحقیقات کر رہی ہے۔
مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ مقدمہ سے جمعیۃ علماء کی قانونی پیروی، تین دنوں کی مسلسل سماعت کے بعد بم دھماکہ متاثرین کی عرضداشت پرسماعت کرنے کے لئے بامبے ہائی کورٹ تیار
سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکرسمیت تمام ملزمین اورقومی تفتتیشی ایجنسی کونوٹس جاری کی گئی۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ انصاف کے لئے جمعیۃعلماء ہند ملک کے نامورکریمنل وکلاء کی خدمات حاصل کریے گی۔
Jamiat Ulema-E-Hind appeal Bombay High Court on Malegaon Case: مالیگاؤں2008 بم دھماکہ معاملہ: این آئی اے عدالت سے بری کئے گئے ملزمین کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے بامبے ہائی کورٹ کا کھٹکھٹایا دروازہ
مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر متاثرین کی طرف سے داخل اپیل میں این آئی اے پر ملزمین سے سمجھوتہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ساتھ ہی حصول انصاف کے لئےجدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
Tahawwur Rana Wants Private Counsel: ممبئی 26/11 حملے کے ماسٹر مائنڈ تہور رانا نے نجی وکیل مقرر کرنے کی مانگ کی، عدالت 7 اگست کو سنائے گی فیصلہ
26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ تہور رانا نے دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اُسے نجی وکیل مقرر کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے اُس نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اُسے اپنے اہلِ خانہ سے بات چیت کی بھی اجازت دی جائے۔ …
Malegaon Bomb Blast Case Verdict: مالیگاؤں کے 2008 بم دھماکہ کے متاثرین کو 17 سال بعد بھی نہیں ملا انصاف، دیکھیں ویڈیو
مہاراشٹرکے مالیگاؤں میں 29 ستمبر 2008 کو ایک مسجد کے قریب کھڑی موٹرسائیکل میں دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا تھا۔ اس دھماکے میں 6 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس معاملے میں بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ پرگیہ سادھوی سمیت کئی لوگوں کو گرفتارکیا گیا تھا۔ 2017 میں سپریم کورٹ نے سادھوی پرگیہ کو ضمانت دی تھی۔ اس معاملے میں عدالت نے ثبوتوں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے سبھی ملزمین کوبری کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
Asaduddin Owaisi on Malegaon Bomb Blast Case Verdict: مالیگاؤں بم دھماکہ میں پرگیہ ٹھاکر-کرنل پروہت سمیت 7 ملزمین بری، اسدالدین اویسی نے کہی یہ بڑی بات
عدالت نے مہاراشٹرکے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں تمام ملزمین کو بری کردیا۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے پوچھا کہ کیا مودی اور فڑنویس حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی، جس طرح انہوں نے ممبئی ٹرین دھماکوں کے ملزمین کے بری کئے جانے پرروک لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے نے جان بوجھ کر اس معاملے میں ناقص تفتیش کی ہے تاکہ ملزمین کو بری کیا جا سکے۔
Malegaon Bomb Blast Case Verdict: سادھوی پرگیہ ٹھاکرنے مالیگاؤں دھماکہ معاملے میں فیصلہ کے بعد دیا پہلا ردعمل، کہا-’مجھے اپنے ہی ملک میں دہشت گرد بنا دیا گیا‘
سادھوی پرگیہ ٹھاکرنے مالیگاؤں دھماکہ معاملے میں بری ہونے اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے ہی ملک میں دہشت گرد بنا دیا گیا۔ میری زندگی تباہ کردی گئی۔ میری 17 سال تک توہین کی گئی۔ مجھے اپنے ہی ملک میں دہشت گرد بنا دیا گیا۔
Verdict in Malegaon Bomb Blast Case:مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں این آئی اے کورٹ کا فیصلہ، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت سبھی 7 ملزمان بری
عدالت نے کہا کہ اے ٹی ایس اور این آئی اے کی چارج شیٹ میں بہت فرق ہے۔ استغاثہ ثابت نہیں کر سکا کہ بم موٹر سائیکل میں تھا۔ کرنل پرساد پروہت کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس نے بم بنایا تھا یا سپلائی کیا تھا۔ یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ بم کس نے لگایا تھا۔ ایکسپرٹس نے واقعے کے بعد ثبوت اکٹھے نہیں کیے جس کی وجہ سے ثبوتوں میں گڑ بڑی ہوئی۔





