مالیگاؤں میں 2008 میں ہوئے بم دھماکہ معاملہ میں 17 سال کے لمبے انتظار کے بعد این آئی اے کی اسپیشل کورٹ نے آج اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔عدالت نے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکراور کرنل پروہت سمیت معاملے کے سبھی 7 ملزمان کو بری کردیا ہے۔ عدالت نے ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے سبھی ملزمین کو بری کرنے کا اعلان کیا۔ مالیگاؤں بم دھماکہ سے متعلق اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا کہ سرکاری ٹیم اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہی کہ بم دھماکہ ہوا تھا، لیکن یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ دھماکہ بائیک سے ہوا تھا۔ عدالت نے کہا کہ واقعے کے بعد ایکسپرٹس کی جانب سے ثبوت اکٹھے نہیں کیےگئے۔ این آئی اے کے اس فیصلے پر ایک طرف بی جے پی ملزمین کی حمایت میں کھڑی ہے اور کانگریس پارٹی پر سوال اٹھا رہی ہے تو وہیں کانگریس، سماجوادی پارٹی اور اے آئی ایم آئی ایم سمیت اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی حکومت پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ سبھی پارٹیوں کے لیڈران کا کیا کہنا ہے، وہ بھی ہم اس ویڈیو میں آپ کو سنائیں گے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اے ٹی ایس اوراین آئی اے کی چارج شیٹ میں بہت فرق ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دھماکے کے بعد پنچ نامہ درست نہیں کیا گیا، حادثے کی جگہ سے فنگر پرنٹس نہیں لیے گئے اورموٹر سائیکل کا چیسس نمبربھی کبھی ریکورنہیں ہوا۔ ساتھ ہی، وہ موٹرسائیکل سادھوی پرگیہ کے نام سے تھی، یہ بھی ثابت نہیں ہو پایا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ملک کی سیاست میں ہنگامہ مچ گیا ہے۔ ایک طرف بی جے پی نے کانگریس پربھگوا آتنک واد کا ٹرم استعمال کرنے کا الزام لگایا تو وہیں کانگریس کے کئی لیڈران نے بی جے پی حکومت پرحملہ بولا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
آپ کو بتادیں کہ 29 ستمبر2008 کومہاراشٹرکے مالیگاؤں میں ایک مسجد کے قریب کھڑی موٹرسائیکل میں دھماکہ خیزمواد پھٹ گیا تھا۔ اس دھماکے میں 6 افراد ہلاک اور100 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس معاملے میں بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ پرگیہ سادھوی سمیت کئی لوگوں کوگرفتارکیا گیا تھا۔ 2017 میں سپریم کورٹ نے سادھوی پرگیہ کو ضمانت دی تھی۔ اس معاملے میں ملزمین کوبری کرتے ہوئے عدالت نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ این آئی اے تمام الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




