نئی دہلی: لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل اور حلقہ بندی کے معاملے پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے واضح کیا کہ 2029 تک ملک میں ہونے والے تمام انتخابات موجودہ یعنی پرانے نظام کے تحت ہی منعقد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پھیلائی جا رہی افواہوں اور خدشات کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ایوان میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ یہ بل صرف اقتدار میں بنے رہنے کے لیے لایا گیا ہے، لیکن ایسے دعوے بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو لوگ ایسا کہہ رہے ہیں، شاید وہ حکومت کی طاقت کو ضرورت سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ ان کا اشارہ سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو کی طرف تھا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ 2029 سے پہلے نہ تو نئی حلقہ بندی نافذ ہوگی اور نہ ہی اس کے تحت انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ اسی وقت نافذ ہوگی جب پارلیمنٹ اسے منظور کرے گی اور صدر اس پر دستخط کریں گے۔ اس لیے آئندہ انتخابات پرانے حلقوں اور موجودہ نظام کے تحت ہی ہوں گے۔ امت شاہ نے اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے ذات پر مبنی مردم شماری کے سوال کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آئندہ مردم شماری اسی بنیاد پر ہوگی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مردم شماری دو مراحل میں ہوتی ہے، پہلے گھروں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور پھر ان میں رہنے والے افراد کی تفصیلات جمع کی جاتی ہیں، جس میں ذات کا ڈیٹا بھی شامل ہوگا۔
#WATCH | Speaking in the Lok Sabha on women’s reservation and delimitation, Union Home Minister Amit Shah says, “There was mention of the Delimitation Commission, saying that you will put your people in the Delimitation Commission and they will do this and that. I want to tell… pic.twitter.com/kX31EDgVm9
— ANI (@ANI) April 16, 2026
انہوں نے حلقہ بندی کمیشن کے حوالے سے بھی اپوزیشن کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس کمیشن کے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون وہی ہے جو سابق حکومت کے دور میں بنایا گیا تھا اور اس میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔ انہوں نے کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پہلے کسی نے اس میں تبدیلی کی ہے تو اس کا جواب بھی وہی دیں۔ وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ خواتین ریزرویشن بل سے کسی بھی ریاست کو نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں سمیت تمام علاقوں میں نمائندگی برقرار رہے گی بلکہ کچھ ریاستوں میں نشستوں میں اضافہ بھی ہوگا۔ مثال کے طور پر تلنگانہ میں نشستیں 17 سے بڑھ کر 26، کرناٹک میں 28 سے بڑھ کر 42 اور تمل ناڈو میں 39 سے بڑھ کر 59 ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بل کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون خواتین کو ان کا جائز حق دینے کے لیے لایا گیا ہے۔ امیت شاہ نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر سیاست نہ کرے اور ملک کے مفاد میں اس قانون کی حمایت کرے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ حکومت جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے اور تمام طبقات کو مساوی نمائندگی دینے کے لیے پرعزم ہے، اور اس سلسلے میں ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا تاکہ ملک کا جمہوری ڈھانچہ مزید مستحکم ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


