نئی دہلی :اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں ایک شادی شدہ خاتون کی مشتبہ موت نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ ایکو ٹیک-3 تھانہ علاقے کے جلپورا گاؤں میں دیپیکا نامی خاتون کی چھت سے گرنے کے بعد موت ہو گئی، جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ بن گیا ہے۔ پولیس ابتدائی طور پر اسے خودکشی قرار دے رہی ہے، جب کہ متوفیہ کے اہل خانہ نے شوہر اور سسرال والوں پر جہیز کے لیے قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرتے ہوئے متوفیہ کے شوہر رتک اور سسر منوج کو گرفتار کر لیا ہے۔ دیپیکا کی شادی تقریباً ڈیڑھ سال قبل جلپورا گاؤں کے رہنے والے رتک کے ساتھ ہوئی تھی۔
پولیس کا مؤقف
نوئیڈا کے ڈی سی پی سینٹرل شیلندر کمار سنگھ کے مطابق 17 مئی کی رات پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ جلپورا گاؤں میں ایک شادی شدہ خاتون نے مبینہ طور پر چھت سے کود کر جان دے دی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور قانونی کارروائی شروع کی گئی، جس میں پنچنامہ اور پوسٹ مارٹم شامل ہے۔ڈی سی پی نے بتایا کہ متوفیہ کے والد کی تحریری شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور شوہر و سسر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس دیگر شواہد جمع کرنے اور معاملے کی ہر زاویے سے تحقیقات میں مصروف ہے۔
والد کا الزام: جہیز کے لیے بیٹی کو ستایا جاتا تھا
دیپیکا کے والد سنجے نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی شادی 11 دسمبر 2024 کو رتک کے ساتھ ہوئی تھی۔ ان کے مطابق شادی کے چند دن بعد ہی سسرال والے جہیز کے لیے بیٹی کو ہراساں کرنے لگے تھے۔انہوں نے کہا کہ واقعے سے ایک دن پہلے وہ خود اپنی بیٹی کے سسرال گئے تھے اور بات چیت کے بعد واپس لوٹے تھے۔ گھر پہنچنے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد سسر منوج کا فون آیا کہ دیپیکا گر گئی ہے۔ جب انہوں نے پوچھا کہ وہ سیڑھیوں سے گری ہے یا باتھ روم میں، تو بتایا گیا کہ وہ چھت سے گری ہے اور اسے شاردہ اسپتال لے جایا جا رہا ہے۔سنجے کے مطابق جب وہ اسپتال پہنچے تو ان کی بیٹی کی موت ہو چکی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دیپیکا کو مسلسل جہیز کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر پریشان کیا جاتا تھا۔
چچا کا دعویٰ: مارپیٹ کے بعد چھت سے پھینکا گیا
متوفیہ کے چچا وشیش ناگر نے کہا کہ خاندان نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیپیکا کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے اور ایک گہرا زخم بھی تھا، جو کسی نوکیلی چیز یا پیچ کس سے لگایا گیا محسوس ہوتا تھا۔ان کا الزام ہے کہ پہلے دیپیکا کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور پھر واقعے کو حادثہ یا خودکشی ظاہر کرنے کے لیے اسے چھت سے نیچے پھینک دیا گیا۔ انہوں نے اس پورے واقعے کے پیچھے جہیز کو اصل وجہ قرار دیا۔فی الحال پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر معاملے کی جانچ کر رہی ہے، جبکہ دیپیکا کی موت نے ایک بار پھر جہیز ہراسانی اور خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

