سعودی ولی عہد محمدبن سلمان سے فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدرحسین الشیخ نے ملاقات کی۔ (تصویر: ایس پی اے)
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے آج پیرکے روزفلسطینی اتھارٹی کے نائب صدرحسین الشیخ سے ملاقات میں فلسطین کی حالیہ پیش رفت پرتبادلۂ خیال کیا۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق، ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاض کے قصرالیمامہ میں الشیخ کا استقبال کیا، جہاں انہوں نے فلسطین کے مقصد اورفلسطینی عوام کے مفادات کی حمایت کے لیے ہونے والی کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔
محمد بن سلمان اورالشیخ کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ کی پٹی میں انسانی صورتِ حال پر بین الاقوامی احتجاج کے باوجود اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے جب گذشتہ ہفتے امریکی وزیرِخارجہ مارکوروبیوط نے قومی سلامتی کے مفادات کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطینی صدرمحمود عباس اوردیگر80 اہلکاروں کے ویزے منسوخ کردیئے۔ یہ پیش رفت اس ماہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے قبل ہوئی ہے۔ عباس نے اس سال اپنے قریبی ساتھی الشیخ کو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کا پہلا نائب صدرمقررکیا تھا۔
سمو #ولي_العهد يستقبل نائب رئيس دولة فلسطين، ويستعرضان تطورات الأحداث في فلسطين، والجهود المبذولة تجاهها لدعم القضية الفلسطينية، ومصالح الشعب الفلسطيني الشقيق.#واس pic.twitter.com/HsKr7l6q9v
— واس الأخبار الملكية (@spagov) September 1, 2025
غزہ پر قبضے کی کارروائی دوہفتوں کے اندرشروع ہوگی: اسرائیلی میڈیا
اسرائیلی میڈیا نے آج پیرکوبتایا ہے کہ فوج نے کابینہ کی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں غزہ شہر کے گھیراؤاورقبضے کے لیے اپنی تفصیلی منصوبہ بندی پیش کی۔ فوج کے مطابق، یہ کارروائی دو ہفتوں کے اندرشروع ہوگی۔ میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اگلے دودنوں میں 60 ہزاراضافی فوجیوں کوطلب کرنے کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران زیادہ تروزراء نے غزہ سے متعلق کسی جزوی معاہدے کومسترد کردیا، جبکہ فوجی سربراہ ایال زامیر اور سیکیورٹی اداروں کے سربراہان نے جزوی معاہدے کی حمایت کی۔ تاہم وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے اس معاملے پر ووٹنگ نہیں کروائی کیونکہ یہ ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کی ایک خفیہ داخلی رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں غزہ میں ہونے والے فوجی آپریشن “عربات جدعون” کی ناکامی تسلیم کی گئی ہے۔ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ فوج نے جنگ میں “ہرممکن غلطی” کی اورکارروائیوں میں واضح طورپرحکمتِ عملی کا فقدان رہا۔ اس کے نتیجے میں فوج اورسازوسامان کی مسلسل کھپت ہوئی، مگر نہ تو کوئی عسکری برتری ملی اور نہ کوئی سیاسی نتیجہ برآمد ہوا۔
غزہ پٹی میں بھوک سے اموات کی تعداد 348 ہوگئی
غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت نے آج پیرکے روزاعلان کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قحط اورغذائی قلت کے باعث مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ وزارت نے اپنے بیان مزید بتایا کہ “یوں قحط کے شکار جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 348 ہوگئی ہے، جن میں 127 بچے ہیں…. 22 اگست کو(آئی پی سی) کی جانب سے غزہ میں قحط کی با ضابطہ درجہ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک 70 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں 12 بچے شامل ہیں”۔ وزارتِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ محاصرے اورخوراک وادویات کی شدید قلت کے باعث غزہ کی انسانی بحران کی صورت حال بدستوربگڑرہی ہے۔ وزارت نے ایک بار پھرعالمی برادری اورامدادی اداروں سے فوری اورہنگامی مداخلت کی اپیل کی۔ گزشتہ بدھ کوامریکہ کے سوا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام اراکین نے کہا تھا کہ غزہ میں قحط “انسانی ساختہ بحران” ہے۔ ان ممالک نے خبردارکیا تھا کہ جنگ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ کونسل کے 14 اراکان نے اپنے مشترکہ بیان میں غزہ میں فوری، پائے داراور غیرمشروط جنگ بندی، حماس اور دیگر گروپوں کی حراست میں موجود تمام قیدیوں کی رہائی، خطے میں بڑے پیمانے پر امداد کی ترسیل اوراسرائیل کی جانب سے امداد کی فراہمی پر عائد تمام پابندیوں کو فوری اورغیرمشروط طورختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


