Bharat Express DD Free Dish

Mohammad bin Salman

 سعودی عرب نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پرنئے فوجی حملے نہیں کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسے خوف ہے کہ جنگ بڑھنے سے آبنائے ہرمز، عالمی تیل فراہمی اوراس کے وژن 2030 منصوبے پرسنگین اثرپڑسکتا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان امریکی اور سعودی حکام کی جانب سے اہم توانائی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی حکام فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی تجارت کومتاثرکیا ہے، جس سے شپنگ لائنیں متاثرہوئی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے موانی نے جدہ اسلامی بندرگاہ سے انڈیا (مندرا) اورجبوتی کے لئے ایک نئی شپنگ سروس شروع کی ہے۔

سعودی عرب نے آبنائے ہرمزمیں پروجیکٹ فریڈم کو روکنے کے لئے امریکہ پردباؤڈالا۔ سعودی عرب نے اعلان کیا کہ "آپ ایران سے لڑنے کے لئے ہمارے اڈے استعمال نہیں کر سکتے اورنہ ہی ہم اپنی فضائی حدود کو ٹیک آف کے لئے استعمال کرنے دیں گے۔"

غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت نے پیر کے روز اعلان کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قحط اور غذائی قلت کے باعث مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ وزارت نے اپنے بیان مزید بتایا کہ "یوں قحط کے شکار جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 348 ہوگئی ہے، جن میں 127 بچے ہیں۔

فرانس نے فلسطین کوعلیحدہ ملک تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے اسرائیل اورنیتن یاہوحکومت کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اس فیصلے میں سعودی ولی عہد نے بڑا کردارادا کیا ہے۔ محمد بن سلمان نے فلسطین کوتسلیم کرانے کے لیے فرانسیسی صدرسے فون پربات کی تھی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس وقت سعودی عرب میں ہیں۔ وہ بدھ کے روز شام کے موجودہ صدر احمد الشرع سے سعودی عرب میں ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

سعودی معیشت کی میکرو اکنامک بنیادوں کا استحکام مملکت کی سرمایہ کاری کی کشش کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اگلے 4 برس میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کی طرف اشارہ کیا۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ اب تک جو کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں وہ مشترکہ قومی کوششوں کی وجہ سے ہیں جنہوں نے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا اور ان میں سے کچھ اہداف سے زیادہ بھی حاصل کرلیا۔ ویژن 2030 کے نویں سال میں ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں نے جو کچھ حاصل کر لیا اس پر ہمیں فخر ہے: سعودی ولی عہد

وزیراعظم مودی نے کہا کہ 2014 کے بعد سے بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2016 میں انہیں شاہ سلمان کی جانب سے ’’آرڈر آف کنگ عبدالعزیز‘‘ سے بھی نوازا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا: ’’ہمارے تعلقات نئی بات نہیں۔ یہ صدیوں پرانے تمدنی روابط پر مبنی ہیں۔ خیالات سے لے کر تجارت تک، دونوں اقوام کے درمیان ہمیشہ باہمی تبادلہ رہا ہے۔‘‘