غزہ میں قتل عام سے اقوام متحدہ میں فلسیطنی مندوب ریاض منصور کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں فلسطین کے مستقبل مندوب ریاض منصورکی جذباتی تقریرنے سبھی کو آبدیدہ کردیا۔ اسرائیل کے ذریعہ غزہ پر کئے جانے والے وحشیانہ حملوں اورانسانی بحران پربات کرتے ہوئے فلسطینی مندوب غم سے رونے لگے۔ ریاض منصور نے کہا کہ غزہ میں درجنوں بچے بھوک سے مررہے ہیں، مائیں ان کے بے جان جسموں کوگود میں اٹھا کران سے معافی مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا یوئی انسان یہ منظربرداشت کرتسکتا ہے؟ انہوں نے ذاتی دکھ اورتکلیف کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ میرے بھی نواسے اورپوتے ہیں، میں جانتا ہوں وہ اپنے خاندانوں کے لئے کیا اہمیت رکھتے ہیں۔ آگ اوربھوک فلسطینی بچوں کونگل رہی ہے اوردنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان کی تقریرکے دوران اقوام متحدہ کے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ فلسطینی مندوب کی تکلیف اوردرد سے بھری ہوئی تقریرکا ویڈیوسوشل میڈیا پروائرل ہوگیا ہے، جس نے دنیا بھر کے عوام اورکئی عالمی رہنماؤں کو جھنجھوڑکررکھ دیا ہے۔
دنیا کی خاموشی پر اٹھایا سوال
فلسطینی مندوب نے کہا کہ آگ اور بھوک فلسطینی بچوں کونگل رہی ہے، دنیا کا خاموشی کے ساتھ فلسطینیوں کویوں تڑپتا دیکھنا یہ کسی مہذب انسان کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ واضح رہے کہ غزہ پراسرائیلی حملے جاری ہیں اور17 ماہ سے زائد عرصے کی جنگ میں شہدا کی تعداد 54 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ گزشتہ دنوں غزہ پراسرائیلی حملے میں ڈاکٹر میاں بیوی کے 9 کم سن بچے شہید ہوئے تھے۔
یورومیڈیٹرینین ہیومن رائٹس واچ کا تہلکہ خیز انکشاف
دوسری جانب، یورومیڈیٹرینین ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں ہنگامہ خیز انکشاف کیا ہے کہ غزہ پٹی کے 10 فیصد رہنے والے فلسطینیوں کو قابض صہیونی ریاست کی جارحیت کے 7 اکتوبر2023 سے جاری اجتماعی قتل عام میں موت، زخم، اغوا یا لاپتہ ہونے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ وحشت آمیز اعدادوشمارانسانی تاریخ کا ایک المناک باب ہیں جو لاکھوں مظلوم فلسطینیوں کے دکھوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، متاثرہ فلسطینیوں میں 31 فیصد بچے اور 21 فیصد خواتین ہیں۔ جبکہ 90 فیصد شہدا وہ عام لوگ ہیں، جن کا جنگ میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ قابض اسرائیل نے گزشتہ 19 مہینوں میں مارے جانے والے ہر10 میں سے 9 فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ثبوت ہے۔ ہزاروں زخمیوں کو معذوری سے دوچارکیا گیا، جن میں 10 ہزار سے زائد بچے ایک یا دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگئے۔ اس دردناک داستان میں 98 فیصد فلسطینیوں کو جبراً اپنے گھروں سے نکال کر تباہ شدہ اسکولوں اور عارضی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


