Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اور اس گھناؤنے حملے کے قصورواروں کو انصاف کے دائرے میں لانے میں ہندوستان کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ ہندوستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا، "جیسا کہ صدر ٹرمپ اور سکریٹری مارکو روبیو نے واضح کیا ہے، امریکہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہے، دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔

کشمیرکے پہلگام دہشت گردانہ حملے پر پاکستان نے کہا ہے کہ ہندوستان اگرکوئی ایڈوینچرکرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے بھی تیارہے۔ ایسا ہی انہوں نے گزشتہ بار بھی کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ہارورڈ یونیورسٹی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’یہود مخالف اور انتہائی بائیں بازو کا ادارہ‘‘ قرار دیا۔

فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موشاف تروم کے داخلی راستے کے قریب اشتاؤل کے جنگل میں لگی شدید آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تقریباً 50 ٹیمیں، چار فائر فائٹنگ طیارے، ایک ہیلی کاپٹر، "لہاوا" یونٹ، KKL ٹیموں اور دیگر اضلاع سے مدد کے ساتھ موقع پر موجود ہیں۔ مزید 20 ٹیمیں راستے میں ہیں۔ آگ کی شدت اور قریبی آبادیوں کو لاحق خطرے کے پیش نظر یروشلم فائر ڈسٹرکٹ کے کمانڈر شمولیک فریڈمین نے اشتاؤل اور مسیلات صیون کی انخلاء کا حکم دیا۔ روٹ 44 کو دونوں اطراف سے بند کر دیا گیا ہے اور عوام سے علاقے سے دور رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔

جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں منگل کے روز ہونے والے دہشت گرد حملے کی جس میں کم از کم 26 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، دنیا بھر سے اہم لیڈروں نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اپنے رنج وغم کا اظہار کیا ۔ عالمی رہنماؤں نے اس بربریت کو “غیر انسانی” اور “سفاکانہ” قرار دیتے ہوئے بھارت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیسٹ پاکستان کی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر بھارت نے اسے اپنے خلاف براہ راست خطرہ سمجھا تو جوابی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

شملہ معاہدہ 2 جولائی 1972 کو بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جو 1971 کی جنگ کے بعد امن قائم کرنے اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دستخط کیا گیا۔ اسے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور پاکستانی صدر ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ میں منظور کیا تھا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ہندوستان میں بھی دہشت گردی ہوگی تو اس کو پورے خلوص سے مذمت کریں گے لیکن اگر ہمارے خلاف اس طرح کے اقدامات ہوں گے تو ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم بھی عالمی قوانین کے مطابق اس پر ردِ عمل کا اختیار رکھتے ہیں اور اختیار کریں گے۔

"سعودی عرب کی وزارت خارجہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔"