Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

آپریشن سندورکوانجام دینے کے بعد حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ میں حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کواس آپریشن کے بارے میں جانکاری دی۔

امریکی سفارتخانے نے پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ اس میں انہوں نے کہا کہ لاہور اور اس کے گرد و نواح میں ڈرون حملوں کی اطلاعات ہیں۔ یہاں موجود تمام امریکی شہریوں کو پناہ میں جانے کی ہدایت جاری کی جارہی ہے۔

ڈرون پاکستان کے جوہری مقام پرپہنچ گیا ہے۔ ایک کے بعد ایک دھماکے نے لاہور اورکراچی میں خوف وہراس پھیلا دیا ہے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں اب تک 25 ڈرون دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ڈرون حملے کے بعد پاکستان کے سیکورٹی سسٹم پرسوالات اٹھ رہے ہیں۔

بھارتی فوج کے آپریشن سندور نے پاکستان میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانے تباہ کر دیئے۔ پاکستانی شہری سوشل میڈیا پر تصدیق کر رہے ہیں کہ بھارتی میزائل نے اپنے اہداف کو درست نشانہ بنایا اور پاکستانی دفاعی نظام ناکام ہو گیا۔ لیکن پاکستان اپنی ناکامی ماننے کو تیار نہیں اور جھوٹ کے بعد جھوٹ بول رہا ہے۔

لاہور میں ہونے والے دھماکوں سے متعلق یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستانی فوج نے 6-7 مئی کی درمیانی رات پہلگام حملے کے جواب میں ’آپریشن سندور‘ شروع کیا تھا۔ ہندوستانی فوج نے پاکستان میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانے تباہ کر دیئے۔

وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ہند-ایران دوستی معاہدے پر دستخط کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والے مشترکہ کمیشن کی میٹنگ میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کا جائزہ لیا جائے گا۔

بلوچستان لبریشن آرمی کے ترجمان جیند بلوچ کے مطابق پہلا حملہ بولن کے ماچ علاقے میں شورقند میں کیا گیا، جہاں پاکستانی فوج کے قافلے کو نشانہ بنا کر ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے حملہ ہوا۔

سری کرتار پور صاحب کوریڈور اگلے حکم تک بند کر دیا گیا ہے۔ زائرین کی سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ لیا گیا۔

ہندوستانی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام مستقل اور غیر مستقل رکن ممالک کے سفیروں کو وزارت خارجہ میں بلایا اور انھیں آپریشن سندور کی معلومات فراہم کیں۔

آپریشن سندور کے بعد پاکستان میں خوف و دہشت کا ماحول ہے اور پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے سُر بھی ڈھیلے پڑ گئے ہیں اور جنگ کے بجائے اب وہ مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔